تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 687

تریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 فروری 1939ء ہماری جماعت تلوار سے نہیں بلکہ نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 17 فروری 1939ء جب تک کسی قوم میں دیانت نہیں اس وقت تک نہ اس قوم میں حکومت رہ سکتی ہے نہ حکومت لے سکتی ہے اور اگر بالفرض وہ بھی اپنی کثرت تعداد کی بنا پر حکومت لے بھی لے تو وہ حکومت کو سنبھال نہیں سکتی مگر یہ چیز صرف حکومت سے تعلق نہیں رکھتی کہ یہ کہا جائے کہ آپ حکومت کی بات لے بیٹھے ہیں۔جماعت احمدیہ کی بات کیوں نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور جتھا حکومتوں سے ہی وابستہ نہیں ہوتا بلکہ قوموں سے بھی وابستہ ہوتا ہے اور بعض قو میں تو تلوار سے جیتی ہیں اور بعض نظام اور تبلیغ سے جیتی ہیں۔ہماری جماعت تلوار سے جیتنے والی نہیں بلکہ نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی ہے اور نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی جماعتوں کو دیانت کی ان جماعتوں سے بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو تلوار سے جیتی ہیں اس لئے کہ جن قوموں کے پاس تلوار ہو وہ تو بد دیانتوں کا تلوار سے سر اڑ سکتی ہیں مگر جن کے پاس تلوار نہ ہو انہیں بددیانتی بہت زیادہ نقصان پہنچایا کرتی ہے کیونکہ ان کے پاس بد دیانتوں کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔انگریزوں میں یا فرانسیسیوں میں یا جرمنوں میں جب کوئی شخص غداری کرتا ہے تو انگریز ، فرانسیسی اور جر من اس پر مقدمہ کرتے اور مجرم ثابت ہونے پر اسے مار ڈالتے ہیں مگر جن کے پاس حکومت نہیں ہوتی اور جو تلوار سے کامیاب نہیں ہونا چاہتے بلکہ نظام اور تبلیغ سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں، ان میں جب کوئی غدار پیدا ہو جاتا ہے تو اس کا سوائے اس کے اور کیا علاج کر سکتے ہیں کہ دلائل سے اس کا مقابلہ کریں مگر اس رنگ میں مقابلہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ غدار شور مچاتا رہتا ہے اور اس کو دیکھ کر بعض اور لوگ بھی جن کی فطرت میں غداری کا مادہ ہوتا ہے یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ ان کے پاس طاقت تو ہے نہیں، چلو ہم بھی ذرا شور مچا دیں۔چنانچہ وہ جماعت کو بدنام کرنے لگ جاتے ہیں۔اس قسم کے مفاسد کو دور کرنے کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ غداری کا قلع قمع کر دیا جائے اور غداری کا قلع قمع اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قوم میں ایسی روح پیدا نہ ہو کہ اس کا ہر فرد موت کو غداری پر ترجیح دے اور وہ کہیں کہ ہم مر جائیں گے مگر غداری نہیں کریں گے۔( مطبوع افضل 15 مارچ 1939ء) 687