تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 683
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جنوری 1939ء زیادہ جدو جہد کی ضرورت ہے جو وہ کر رہے ہیں۔قادیان سے فہرستیں آچکی ہیں اور ان کو بہت جلد تحریک جدید و نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے ان کے فرائض سے مطلع کر دیا جائے گا اور میں ہر ایک احمدی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ پوری محنت ، و ہمت اور کوشش سے کام کرے گا۔اس کے بعد میں قادیان کے دوستوں کو بھی اور باہر والوں کو بھی تحریک جدید کے مالی حصہ کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔یاد رکھنا چاہئے کہ دس فروری کے بعد کوئی وعدے قبول نہیں کئے جائیں گے۔میں نے کل دفتر سے لسٹ منگوائی تھی اور مجھے افسوس ہے کہ قادیان میں بھی ابھی بہت سے ایسے دوست ہیں جنہوں نے توجہ نہیں کی۔وہ ایسے نہیں کہ ہم خیال کریں کہ مالی مشکلات کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکے بلکہ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں حصہ لے سکتے ہیں۔باہر کی بعض بڑی جماعتوں کی فہرستیں بھی تاحال نہیں آئیں جیسا کہ دفتر کی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے۔میں جانتا ہوں کہ وعدوں کا زور آخری دنوں میں بہت ہوتا ہے۔جو مخلص ہیں وہ تو پہلے دنوں میں ہی توجہ کرتے ہیں۔پھر درمیان میں رو کم ہو جاتی ہے اور پھر جب آخری دن ہوتے ہیں تو پھر رو تیز ہو جاتی ہے کیونکہ دوستوں کو خیال ہوتا ہے کہ اب وقت ختم ہونے کو ہے مگر ان کو اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ دس فروری کے بعد یا با ہر کے جس خط پر گیارہ فروری کے بعد کی مہر ہوگی ایسا کوئی وعدہ قبول نہیں کیا جائے گا جبکہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جماعت خدمت کرنے والوں کی تیار کرنا چاہتا ہے اور کئی لوگوں کے خوابوں میں اس کی تائید ہو چکی ہے۔سینکڑوں لوگوں کو اس کے متعلق الہامات ہو چکے ہیں تو پھر پیچھے رہنا کس قدر بدنصیبی ہے؟ پس ہر ایک شخص جو تھوڑا بہت بھی حصہ لے سکتا ہے مگر نہیں لیتا اس کی بدقسمتی میں کوئی شبہ نہیں۔کئی لوگ محض اس لئے چکچاتے ہیں کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ پہلے ہم نے زیادہ حصہ لیا تھا اب کم کس طرح لیں؟ حالانکہ شرائط کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے۔اس سے زیادہ حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو شخص سابقون میں شامل نہ ہو سکے وہ دوسرے درجہ میں بھی نہ ہو۔ایسا خیال کرنا نادانی اور ثواب کی ہتک ہے۔ثواب خواہ کتنا ہی تھوڑا کیوں نہ ہو ، حاصل کرنا چاہئے۔اگر کسی نے پچھلے سال سور و پیر دیا مگر اس سال وہ سمجھتا ہے کہ میں پانچ ہی دے سکتا ہوں اس لئے چندہ لکھوانے سے رکتا ہے کہ اس سے میری ہتک ہوگی تو وہ عزت کو ثواب پر مقدم کرتا ہے حالانکہ ثواب کو عزت پر مقدم کرنا چاہئے۔اگر تو وہ واقعی معذور ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے پانچ روپے بھی پانچ سو کے برابر ہیں اور اگر وہ معذور نہیں تو جو درجہ وہ ایمان کا اپنے لئے تجویز کرتا ہے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ سے اجر پائے گا۔683