تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 564

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود 18 جون 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رہے ہیں حالانکہ چاہئے تھا کہ بیرون جات سے بھی لوگ شامل کئے جاتے اور قادیان سے بھی سب دوست شامل ہوتے۔اب میں امید کرتا ہوں کہ باہر کے بھی اور قادیان کے دوست بھی اس کو تا ہی کو دور کریں گے۔مجلس خدام الاحمدیہ کیلئے خدمت کا یہ ایک موقعہ ہے۔اس کے والنٹیئر لوگوں کے گھروں میں جائیں اور مردوں اور بچوں کو شریک کریں اور لجنہ اماء اللہ بھی عورتوں میں تحریک کرے اور سب کوشش کریں کہ یہ جلسے بہتر سے بہتر صورت میں ہوں اور ہر احمدی تک یہ پیغام پہنچ جائے کوئی نہ کہہ سکے کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ابھی سفر سندھ کے دوران مجھے بعض خطوط ملے جن میں ذکر تھا کہ ہمیں تو چار سال میں تحریک جدید کا علم بھی نہیں ہوا اور جب ہم ایک چھوٹی سی جماعت تک بھی یہ پیغام نہیں پہنچا سکے تو ساری دنیا تک کس طرح پہنچا ئیں گے۔پس ضروری ہے کہ ہر ایک کو پوری طرح واقف کر دیا جائے تا عمل کرنے کی روح پیدا ہو سکے اور آخری جلسہ میں لوگوں سے اس عہد کی تجدید کرائی جائے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کریں گے اور اپنے وعدے پورے کریں گے۔تجدید عہد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورصوفیاء سے ثابت ہے جسے بیعت ارشاد کہا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ لوگوں سے فرمایا کرتے تھے کہ دوبارہ بیعت کر لو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ستر ستر اور سوسو مرتبہ بیعت کی تھی یعنی جب بھی موقعہ ملتاوہ شامل ہو جاتے تو تجدید عہد خوبی کی بات ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں جماعت میں نئی بیداری اور نئی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ عہدہ داران کے بھی امتحان کا وقت ہے اور مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبروں کا بھی اور باقی جماعت کا بھی۔آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ میں سچائیوں کو کھول کھول کر بیان کر سکوں اور جماعت کو بھی توفیق دے کہ ان کو قبول کر سکے اور ان پر عمل کر سکے۔آمین۔( مطبوع الفضل 22 جوان 1938 ء ) 564