تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 375

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 125 اکتوبر 1936ء گا کہ دوستوں کے پاس روپیہ نہیں بلکہ یہ سمجھوں گا کہ اس طرف توجہ نہیں کی گئی۔پچاس فیصدی لوگوں کے پاس کچھ نہ کچھ رقم پس انداز ہوتی ہے۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ جو تم کوئی جمع کرائے وہ کسی اور کو نہ بتائی جائے۔یہ ضروری بات ہے بینک والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں وہ حکومت تک کو کسی کی امانتی رقم نہیں بتاتے کیونکہ بتانے سے رقوم رکھنے والوں کو کئی قسم کی دقتیں پیش آسکتی ہیں۔اس بارہ میں یہ قانون ہو گا کہ کسی کی امانتی رقم کا کسی کو علم نہ ہو اور کسی کو کسی رقم کے متعلق کچھ نہ بتایا جائے۔اسی کے ماتحت جو صاحب یہ کہیں گے کہ ان کی رقم مقامی جماعت کی معرفت ادا نہ ہوا نہیں انجمن خود بھیجے گی۔دوسری تجویز قرض کی ہے، تیسری انجمن کی بعض جائیداد میں گرور کچھ کر روپیہ دینے کی اور چوتھی جو د دوست اپناروپیہ تجارت پر لگا نا چاہیں وہ لگا سکتے ہیں اور انہیں کافی منافع مل سکتا ہے۔یہ چار تجویزیں ایسی ہیں کہ اگر جماعت ان پر عمل کرے اور کوئی وجہ نہیں کہ عمل نہ کرے یا اس سے عمل کرایا نہ جائے تو بوجھ دور نہ ہو۔پانچویں تجویز یہ ہے کہ وہ جماعتیں جو موجودہ حالات میں اسے پسند کرتی ہیں شرح چندہ چار پیسے کی بجائے پانچ پیسے کر دیں اور اس پر عمل شروع کر دیں۔یہ لازمی نہ ہو بلکہ ہر ایک کی مرضی پر ہو اس کے لئے تحریک کی جائے کہ اپنی مرضی سے یہ اضافہ کریں اور موصیوں کو تحریک کی جائے کہ زیادہ حصہ کے لئے وصیت کریں۔یہ جبری نہ ہوگا بلکہ اپنی مرضی سے ہوگا۔بے شک ہم جبری طور پر بھی وصیت کا حصہ بڑھا سکتے ہیں اور ہر موصی کے لئے ضروری قرار دے سکتے ہیں مگر اسی وقت کہ اسلام کی زندگی اور موت کا سوال در پیش ہومگر ایسا وقت ابھی نہیں آیا۔پس چندہ کے اضافہ اور حصہ وصیت کے بڑھانے کے متعلق جماعتوں کو تحریک کی جائے اور ناظر پوچھتے رہیں کہ مقامی کارکن اور نمائندگان مجلس مشاورت نے تحریک کی ہے یا نہیں اور کتنے مخلصین نے پانچ پیسے نی روپیہ چندہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور وصیت کے حصہ میں اضافہ کرنے والے کتنے ہیں؟ اس کے لئے میں تین سال کی میعاد مقرر کرتا ہوں۔وصیت کے حصہ میں اضافہ کے لئے اور شرح چندہ میں اضافہ کے لئے بھی یعنی جو دوست اس حکم کے ماتحت اضافہ کریں گے وہ تین سال کے بعد پہلی شرح پر وصیت اور چندہ ادا کر سکیں گے۔375