تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 334
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 9 اکتوبر 1936ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول کریں اور انجمن کے چندے بھی باقاعدہ ادا کریں بلکہ گزشتہ سال کئی لوگوں نے یہ بات پیش کی کہ ہم نے تحریک جدید کا وعدہ لکھایا تھا مگر اس وقت ہمیں اپنی طاقت کا علم نہ تھا اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر تحریک جدید کا چندہ ادا کریں تو انجمن کے چندے ادا نہیں کر سکیں گے اس لئے ہمیں تحریک جدید کا چندہ معاف کر دیا جائے تو ان کا تحریک جدید کا چندہ معاف کر دیا گیا مگر منافق کے لئے ان دلائل کا بیان کرنا فضول ہے کیونکہ منافق کو دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔وو پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقت کم ہے اس لئے مالی بھی اور دوسری قربانیاں کرنے کی طرف بھی پوری پوری توجہ کریں خصوصاً سادہ زندگی کی طرف زیادہ توجہ کریں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سادہ زندگی کی ہدایت پر عمل کرنے میں کچھ نقص ہے ورنہ اتنا اثر چندوں پر نہ پڑتا کیونکہ سادہ زندگی سے اخراجات میں جو کمی آنی چاہئے چندوں کا بوجھ اس سے کم ہے اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ دوستوں کے پاس کچھ روپیہ جمع ہوتا مگر ایسا نہیں ہوا۔سادہ زندگی کی تحریک کوئی معمولی نہیں بلکہ دراصل دنیا کے آئندہ امن کی بنیا داسی پر ہے۔جب تک جماعت احمدیہ قائم رہے گی تحریک جدید بھی کسی نہ کسی شکل میں چلتی رہے گی۔ممکن ہے چندہ کی شکل چند سالوں تک ختم ہو جائے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ آمد کی مستقل صورت پیدا ہو جائے اور یہی وجہ ہے کہ آمد کا معتد بہ حصہ میں سلسلہ کے لئے جائیداد بنانے پر لگا رہا ہوں تا اس کی آمد سے کام چلائے جاسکیں اور چندوں کی ضرورت صرف وقتی کاموں کے لئے ہی رہے لیکن اس تحریک کے جو دوسرے حصے ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے خصوصاً سادہ زندگی کی تحریک بہت ضروری ہے یہی ہے جو امیر و غریب کا امتیاز مٹاتی ہے۔مغربی اور مشرقی و شہری اور دیہاتی تمدن میں سوائے اس کے کیا فرق ہے کہ گاؤں کے امیر کی زندگی بھی سادہ ہوتی ہے مگر شہروں میں ایسا نہیں۔ایک گاؤں میں دوسوا یکڑ زمین کے مالک کا تمدن بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ دوا یکٹر زمین کے مالک کا اور وہ دونوں دارے میں اکھٹے بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ور۔اس تحریک سے میری غرض یہ ہے کہ دو آدمیوں میں جو فرق ہے یعنی ایک اپنے کو آدمی سمجھتا ہے اور دوسرا فرعون ، اسے مٹا دیا جائے اور دونوں ہی آدمی بن جائیں۔حضرت خلیفہ اول کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بعض شاگرد بھی بیٹھے رہتے تھے اور شاگردوں میں سے بھی بعض اپنے کو بڑا سمجھ لیا کرتے ہیں۔بعض اوقات آپ کسی مریض کو دوالگانے کے لئے فرماتے کہ کوئی تنکا 334