تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 281
نزیک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تقریر فرمودہ 28 جون 1936ء سے فائدہ اُٹھا ئیں اور وہ لوگ جن کے اندر نفاق تھا انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ نئی چیز ہے کہنا شروع کر دیا کہ اب یہ نئی نئی باتیں نکال رہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام کے طریق سے انحراف کر رہے ہیں۔نہ اس نے بات سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اس نے فائدہ اُٹھایا۔پرانی شراب پرانے مٹکوں میں پڑی ہوئی تھی صرف اس کا نام بدل دیا گیا تو منافق نے کہنا شروع کر دیا اب یہ نئی باتیں بتانے لگ گئے ہیں اور مخلص نے کہا میرے سامنے نئی چیز پیش کی جارہی ہے آؤ میں اس سے فائدہ اُٹھاؤں۔حالانکہ وہ پرانی ہی چیز تھی جسے ایک نیا نام دے دیا گیا۔وہ وہی چیز تھی جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا اور وہ وہی چیز تھی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا مگر وہ لوگ جن کی ایمانی حالت بچوں کی سی تھی انہوں نے کہا: آؤ ہم ایک نئی چیز کا تجربہ کریں اور منافقوں نے کہہ دیا کہ اب پرانے طریق چھوڑ کر نئے طریق اختیار کئے جارہے ہیں۔حالانکہ اس میں وہ کونسی چیز ہے جو نئی ہے؟ وہی ایک قانون ہے جو آدم کے وقت سے مقرر ہوا کہ جب شیطان تم پر حملہ کرے گا تمہیں اس کے مقابلہ میں اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے پڑیں گے بغیر اس کے تمہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس کے سوا تحریک جدید اور کیا ہے؟ یہی قانون اس تحریک میں کام کر رہے کہ حرکت میں برکت ہے نیا نام تو اسے اس لئے دیا گیا کہ وہ لوگ جونئی چیز کی طرف توجہ کرنے کے عادی ہیں اس کا نیا نام سن کر اس کی طرف توجہ کریں۔جیسا کہ کہتے ہیں کوئی زمیندار مرنے لگا تو اس کے چار لڑکے تھے وہ چاروں اُس کے پاس آئے باپ نے کہا: میں اب مرنے لگا ہوں اس لئے میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نے اپنے کھیت میں ایک خزانہ دفن کیا تھا مجھے یاد نہیں رہا وہ کس جگہ ہے؟ جب میں مر جاؤں تو سارا کھیت کھود ڈالناممکن ہے وہ خزانہ کسی جگہ سے تمہیں دستیاب ہو جائے۔باپ کے مرتے ہی چاروں بھائی کدالیس لے کر کھیت میں پہنچ گئے اور تمام زمین کھود ڈالی مگر انہیں خزانہ نہ ملا وہ حیران ہوئے کہ خزانہ کہاں چلا گیا؟ پھر خیال آیا کہ شاید کوئی چور نکال کر لے گیا ہو مگر اس کے بعد جب انہوں نے اسی کھیت میں کھیتی ہوئی تو بوجہ اس کے کہ انہوں نے کھود کھود کر تمام زمین کو نرم کر دیا تھا فصل خوب ہوئی اور دوسروں سے کئی گنے زیادہ اناج پیدا ہوا۔انہوں نے ایک دن اتفاقاً کسی سے ذکر کیا کہ ہمارے باپ نے مرتے وقت کہا تھا کہ اس زمین میں خزانہ مدفون ہے ہم نے تمام زمین کھود ڈالی مگر خزانہ کہیں سے نہیں ملا۔وہ کہنے لگا ہے وقو فو! یہی تو خزانہ ہے جو کئی گنے زیادہ اناج کی صورت میں تمہیں مل گیا اگر تمہارا باپ تمہیں یہ کہتا کہ زمین خوب کھودنا اس سے اچھی فصل ہو گی تو تم کب اس کی بات مانتے ؟ تم کہتے کیا بے وقوفی کی بات ہے؟ جس طرح دوسرے لوگ فصل ہوتے ہیں اسی طرح ہم کیوں نہ ہوئیں؟ مگر جب اُس نے خزانے کا لفظ بول 281