تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 69
69 اللہ صلی السلام نے فرمایا کہ قرآن کے حسن میں اپنی عمدہ آواز کے ساتھ اضافہ کیا کرو کیونکہ عمدہ آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کا موجب ہوتی ہے۔( مشکوۃ المصابیح کتاب فضائل القرآن ) اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہئے۔بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور خود اس میں ایک اثر ہے۔عمده تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔وہی تقریر ژولیدہ زبانی سے کی جائے یعنی کہ واضح طور پر نہ ہو تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔جس شے میں خدا تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی طمکاس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤد خدا تعالیٰ کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 524 مطبوعہ ربوہ ) تو اس خوش الحانی کا بھی مقصد ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا رکھا ہے؟ یہ کہ اس سے اسلام کی تبلیغ ہو۔وہ لوگ جو اچھی آواز سے متاثر ہوتے ہیں ان کو متاثر کر کے پھر اس تعلیم کے اصل مغز سے آگاہ کیا جائے۔جس کتاب کا میں نے شروع میں حوالہ دیا ہے، اس میں اکثر عورتوں نے یہی ذکر کیا ہے کہ کیوں انہوں نے اسلام قبول کیا ؟ اس کو سنا اور پھر جب اس کی تعلیم کو دیکھا تو ان کو پسند آئی۔تو یہی بات جو انہوں نے کی ہے اس کی تعلیم ان کو پسند آئی ، یہی قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ حقیقی تعلیم اور فطرت کے مطابق تعلیم اور ہدایت کے راستے قرآن کریم میں ہی ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے۔انً هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبیرا۔( بنی اسرائیل : 10 ) یعنی یقینایہ قرآن اس ( راہ) کی طرف ہدایت دیتا