تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 66
66 حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی صالنا یہ تم کی قرآت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی ا تم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔(ابوداؤد۔کتاب الوتر باب استخاب الترتيل في القراءة) قرآن کریم کو بہت غور اور تدبر سے پڑھنا چاہئے آنحضرت صلی ایم نے فرمایا ہے قرآن کریم کے کئی بطن ہیں۔یعنی اس کے الفاظ میں اتنے گہرے حکمت کے موتی ہیں کہ ہر دفعہ جب ایک غور کرنے والا اس کی گہرائی میں جاتا ہے تو نیا حسن اس کی تعلیم میں دیکھتا ہے۔آنحضرت ملال ہی تم سے زیادہ تو کوئی اس گہرائی کا علم نہیں رکھ سکتا جو قرآن کریم کے الفاظ میں ہے۔پس آپ جب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے تو ان الفاظ کے مطالب ، ان کے معانی، ان کی گہرائی کی تہ تک پہنچتے تھے۔لیکن آپ کا یہ اسوہ ہمیں اس بات پر توجہ دلاتا ہے کہ قرآن کریم کو غور اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور تدبر اور فکر کریں۔اسی غور و فکر کی طرف توجہ دلانے کے لئے آپ نے اپنے ایک صحابی کو یوں تلقین فرمائی تھی۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ سی ایم نے مجھے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔اس پر میں نے عرض کیا کہ میں اس سے جلدی پڑھنے کی قوت پاتا ہوں۔اس پر آنحضور مالی پریتم نے فرمایا: پھر ایک ہفتہ میں مکمل کیا کرو اور اس سے پہلے تلاوت قرآن مکمل نہ کرنا۔الهموم ( بخاری کتاب فضائل القرآن باب في كم يقرء القرآن ) پس اگر وقت ہے تو پھر بھی اجازت نہیں کہ ایک ہفتہ سے پہلے قرآن کریم کا دور پورا مکمل کیا جائے کیونکہ فکر اور غور نہیں ہو سکتا۔جلدی جلدی پڑھنا صرف مقصد نہیں ہے۔اس