تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 8
8 وسلم کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جوصدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا تھا“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 409 احکام 31 جنوری 1901ء) پس بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھنے کی عادت ڈالیں اور خود بھی پڑھیں۔ہر گھر سے تلاوت کی آواز آنی چاہئے۔پھر ترجمہ پڑھنے کی کوشش بھی کریں۔اور سب ذیلی تنظیموں کو اس سلسلے میں کوشش کرنی چاہئے ، خاص طور پر انصار اللہ کو کیونکہ میرے خیال میں خلافت ثالثہ کے دور میں انکے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا۔اسی لئے ان کے ہاں ایک قیادت بھی اس کے لئے ہے جو تعلیم القرآن کہلاتی ہے۔اگر انصار پوری توجہ دیں تو ہر گھر میں با قاعدہ قرآن کریم پڑھنے اور اس کو سمجھنے کی کلاسیں لگ سکتی ہیں۔قرآن کریم پڑھنے والے کی مثال ย ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابوموسیٰ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مومن قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی عمدہ اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا مگر اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو عمدہ ہے مگر اس کی خوشبو کوئی نہیں۔اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس خوشبو دار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو تو عمدہ ہے مگر مزا کڑوا ہے۔اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایسے کڑوے پھل کی طرح ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہے جس کی خوشبو بھی کڑوی ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب اثم من رأى بقراة القرآن او تأكل به او فجربه) اس حدیث سے قرآن کریم کی مزید وضاحت یہ ہوتی ہے کہ نہ صرف تلاوت ضروری ہے بلکہ اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔جو قرآن کریم پڑھتے بھی ہیں