آنحضرت ﷺ اور امنِ عالم — Page 16
آنحضرت صلی الم اور امن عالم اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی 2022 امن کی خواہش ہے تو وہ فساد کا ذریعہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں خود غرضی شامل ہے کیونکہ جو لوگ امن چاہتے ہیں وہ اس رنگ میں امن کے متمنی ہیں کہ صرف انہیں اور ان کے قریبیوں کو یا ان کی قوم کو امن حاصل رہے۔ورنہ دوسروں کے لیے اور د دشمنوں کے وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے امن کو مٹا دیں۔پس اگر اس اصول کو رائج کر دیا جائے کہ اپنے لیے اور معیار اور دوسرے کے لیے اور تو دنیا میں جو بھی امن قائم ہو گا وہ چند لوگوں کا امن ہو گا، ساری دنیا کا امن نہیں ہو گا۔اور اگر ساری دنیا کا امن نہ ہو توجو ساری دنیا کا امن نہ ہو وہ حقیقی امن نہیں کہلا سکتا۔حقیقی امن تبھی ہو گا جو ذاتی، خاندانی، نسلی، قومی، ملکی ترجیحات سے بالا ہو کر قائم کرنے کی کوشش کی جائے، ایک مرکزی محور کے حصول کے لیے کی جائے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب انسان اس بات کو سمجھ لے اور اس کا فہم و ادراک پیدا کر لے کہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لیے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ تمام دنیا کے لیے امن چاہتی ہے، جو میرے گھر اور ملک کے لیے ہی امن 16