خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 506
506 رابطے بڑی جگہوں کی نسبت زیادہ ہیں اور وہاں مقامی لحاظ سے جو بڑے لوگ ہیں ، رابطوں میں ان کو بھی وہ لے آتے ہیں ، عوام کو بھی لے آتے ہیں، اوسط درجے کے لوگوں کو بھی لے آتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہماری کوشش اور رابطوں میں اور دعاؤں میں بہت کمی ہے۔یہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی طرف بھی بہت توجہ دینی ہوگی۔۔۔۔گزشتہ کو تا ہیوں پر خدا تعالیٰ سے معافی مانگیں اور مغفرت طلب کریں اور آئندہ ایک جوش اور ایک ولولے اور جذبے کے ساتھ احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے آگے بڑھیں۔ابھی دنیا کے بلکہ اس صوبہ کے، سکاٹ لینڈ کے بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں احمدیت کا پیغام نہیں پہنچا کسی کو احمدیت کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہے۔پس بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے، دعاؤں کی بھی ضرورت ہے تبھی ہم اس دعوے میں بچے ہو سکتے ہیں کہ ہم تمام دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے لے کر آئیں گے انشاء اللہ۔اور اسی لئے ہم نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی ہے اور آپ کی بیعت میں الفضل 21 دسمبر 2004ء صفحہ 4,3) شامل ہوئے ہیں۔9 دسمبر 2005ء کو حضور نے ماریشس میں خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو خلافت سے وابستگی اور اخلاص ہے۔لیکن دعوت الی اللہ کی طرف اس طرح توجہ نہیں دی جارہی جس طرح ہونی چاہئے اس لئے جماعتی نظام بھی اور ذیلی تنظیمیں بھی دعوت الی اللہ کے پروگرام بنا ئیں۔روزنامه الفضل 7 مارچ 2006ء) لاکھوں کی تعداد میں وقف نو چاہئیں جامعہ احمد یہ لندن کے افتتاح کے موقعہ پر یکم اکتوبر 2005ء کو خطاب میں حضور انور نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے جب وقف نو کی تحریک فرمائی تھی تو فرمایا تھا کہ ہمیں لاکھوں واقفین نو چاہئیں۔اب تک تو واقفین نو کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن جس طرح جماعت کی تعداد بڑھ رہی ہے اور جس طرح والدین کی اس طرف توجہ پیدا ہورہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ لاکھوں کی تعداد ہو جائے گی۔اور پھر ظاہر ہے کہ ہر ملک میں جامعہ احمدیہ کھولنا پڑے گا۔اور یہ انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن ہوگا۔( روزنامه الفضل 7 دسمبر 2005ء )