خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 499
499 پھیلانے والے ہیں اس کا سد باب کرنے کی کوشش کریں۔اگر چند ایک بھی ایسی سوچ والے لوگ ہیں تو پھر اپنے ماحول پر اثر ڈالتے رہیں گے، نہ صرف ذیلی تنظیمیں بلکہ جماعتی نظام بھی جائزہ لے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ چند ایک بھی اگر لوگ ہوں گے تو اپنے اثر ڈالتے رہیں گے اور شیطان تو حملے کی تاک میں رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے بننے کی بجائے اس طرح بعض شرک میں پڑنے والے ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بیماری چاہے چند ایک میں ہی ہو، جماعت کے اندر برداشت نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ تو یہ دعا سکھاتا ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک یہ دعا کرے کہ مجھے متقیوں کا امام خلیفہ وقت بھی یہ دعا کرتا ہے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا اور یہ پیر پرست طبقہ کہتا ہے کہ ہم جو مرضی عمل کریں۔ہمارے پیر صاحب کی دعاؤں سے ہم بخشے جائیں گے۔انا للہ۔یہ تو نعوذ باللہ عیسائیوں کے کفارہ والا معاملہ ہی آہستہ آہستہ بن جائے گا۔وہی نظریہ پیدا ہوتا جائے گا۔پس اس طرف چاہے یہ چھوٹے ماحول میں ہی ہو، بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ابھی سے اس کو دبانا ہوگا اور ہر احمدی یہ عہد کرے کہ اس رمضان میں اپنے اندر انشاء اللہ تعالیٰ انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ہر احمدی یہ کوشش کرے اور ہر احمدی خودان دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے مزے چکھے الفضل 30 دسمبر 2004ءص4) بجائے اس کہ دوسروں کے پیچھے جائے“۔سگریٹ نوشی ترک کرنے کی تحریک: سگریٹ نوشی کا رجحان دنیا بھر میں ترقی کر رہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2025 ء تک سگریٹ نوشی نے 15 کروڑ افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ترقی پذیر اور نئے صنعتی ممالک میں بڑھتی ہوئی عادت کے سبب 70 فیصد سے زائد اموات متوقع ہیں۔ایک عالمی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں 70 کروڑ بچے تمباکو نوشی کے دھوئیں میں مسلسل سانس لیتے ہیں۔روزنامه دن 6 فروری 2008 ص 6 حضور نے خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 2003ء میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔آجکل یہی برائی ہے حقہ والی جو سگریٹ کی صورت میں رائج ہے۔تو جو سگریٹ پینے والے ہیں