خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page v of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page v

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد 27 مئی 1908ء کو جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام قائم ہوا اور منشائے الہی کے تحت حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی قدرت ثانیہ کے پہلے مظہر قرار پائے اور اس طرح مندرجہ ذیل مقدس وجود یکے بعد دیگرے اس منصب پر فائز ہوئے۔1۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب بھیروی خلیفتہ المسیح الاول 27 مئی 1908ء تا 13 مارچ 1914ء 2۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی 14 مارچ 1914 ء تا 8 نومبر 1965ء 3- حضرت صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب خلیفہ امسح الثالث؟ نومبر 1965 ء تا 9 جون 1982ء| 4۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مسیح الرابع 10 جون 1982 ء تا19 را پریل 2003 ء 5 - حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ 22 را پریل 2003 ء سے اس منصب کی زینت ہیں۔خلافت احمدیہ کا سارا نظام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کے لئے وقف ہے اور یکے بعد دیگرے قدرت ثانیہ کے مظاہر حضرت مسیح موعود کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔جماعت احمدیہ کے قیام کو اب 120 سال کا عرصہ گزررہا ہے۔اس تمام عرصہ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشگوئیوں کے مطابق جماعت احمدیہ کی ایک ہی پالیسی ، ایک ہی رخ اور ایک ہی نصب العین ہے جو بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعین کیا ہے۔ایک کے بعد ایک امام اور سر براہ آتا چلا جاتا ہے اور اسی منزل کی طرف جماعت کے قدموں میں مزید تیزی پیدا کرتا جاتا ہے۔نہ کوئی اختلاف ہے نہ کوئی تبدیلی نہ ترمیم وتنتی۔ہاں ہر آنے والا ، وقت کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق سابقہ کام کو آگے بڑھاتا ہے اور عزم و عمل کے مزید پروگرام جماعت کو دیتا ہے۔انہی پروگراموں اور لائحہ عمل کو جماعت میں تحریکات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو کشتی احمدیت کو بھرے ہوئے طوفانوں سے بچاتے ہوئے رفتار میں تندی پیدا کر دیتے ہیں۔جماعت کے خلفاء نے اللہ کی منشاء اور رہنمائی کے تابع بیسیوں روحانی تربیتی علمی اور انتظامی تحریکیں جاری کی ہیں۔اب جبکہ خلافت احمدیہ (1908 ء-2008ء کو 100 سال پورے ہو رہے ہیں مرکزی جوبلی منصوبہ کے تحت خلفاء سلسلہ کی تحریکات پر یہ مبسوط کتاب شائع کی جارہی ہے۔جس