خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 405 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 405

405 افسر صاحب جلسہ سالانہ نے مجھ سے بات کی ہے کہ ربوہ کے رضا کا راب پورے نظام جلسہ کو سنبھال نہیں سکتے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ احمدی جور بوہ سے باہر رہتے ہیں ٹوکن کے طور پر بحیثیت جماعت اس انتظام میں شامل ہوں اور وہ احمدی بھی جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں اور یہاں وفود کی شکل میں آتے ہیں وہ رضا کارانہ طور پر کام کریں لیکن تنظیم کے ماتحت یعنی ان کا اپنے آپ کو پیش کرنا رضا کارانہ ہوگا اور جب ان کی فہرست یہاں پہنچے گی تو وہ ایک نظام کے ماتحت ہوگی۔مثلاً کراچی کے نوجوان رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات جلسہ کے کام کے لئے پیش کریں لیکن کراچی کی جماعت احمدیہ میں انصار کو نہیں کہہ رہا اور نہ خدام سے کہ رہا ہوں ) ان رضا کاروں کی فہرست مرکز میں بھجوائے گی۔وہاں کے رضا کار جماعت احمدیہ کراچی کو اپنے نام لکھوائیں گے اور جماعت احمد یہ کراچی ہمارے پاس ان کے نام بھیجے گی۔ہمیں زیادہ رضا کاروں کی ضرورت نہیں۔تھوڑے سے رضا کار چاہئیں۔کوئی چار پانچ سو کے درمیان رضا کاروں کی ضرورت ہے جو باہر سے آئیں گے اور ان کے حالات کے مطابق یہاں کے منتظمین ان کی ڈیوٹیاں لگائیں گے۔ایک ہدایت میں نے کی ہے ضرور اور وہ یہ کہ اگر کھانا کھلانے کی ڈیوٹی ان کو دینی ہو تو سیالکوٹ کے جو رضا کار ہوں گے ان کی ڈیوٹی سیالکوٹ کی جماعتوں پر نہ لگائی جائے بلکہ سرگودھا کی جماعت پر لگائی جائے یا جھنگ کی جماعت پر لگائی جائے یا لائلپور (فیصل آباد ) کی جماعتوں کو کھانا کھلانے پر لگائی جائے۔اس طرح ان کی واقفیت اور تعارف اور تعلقات بڑھیں گے۔میل ملاقات زیادہ ہوگی اور یہ بھی ہم ان سے ایک فائدہ اٹھائیں گے۔(خطبات ناصر جلد 6 ص 573 ) مجالس موصیان کا قیام حضور کو وسط 1966ء میں یہ نظارہ دکھایا گیا کہ قرآن کا نور تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی سکیموں کے ذریعہ دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔اس پر حضور نے 5 اگست 1966ء کے خطبہ میں فرمایا :۔پس چونکہ وصیت کا یا نظام وصیت کا یا موصی صاحبان کا ، قرآن کریم کی تعلیم ، اس کے سیکھنے اور اس کے سکھانے سے ایک گہرا تعلق ہے۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی تحریکوں کو موصی صاحبان کی تنظیم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور یہ سارے کام ان کے سپرد کئے جائیں۔