خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page iii of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page iii

حرف آغاز آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر فرمایا تھا:۔خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ( صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب فضل الصحابہ حدیث نمبر 4601) کہ بہترین صدی میری صدی ہے اور اس کے بعد دوسری اور تیسری صدی۔ان تین صدیوں میں اسلام اپنے عروج کو پہنچا۔کیا بلحاظ تقویٰ، کیا بلحاظ علوم اور بلحاظ وسعت اسلام تمام ادیان سے سبقت لے گیا۔پھر تنزل کا دور شروع ہوا جو ایک طویل تاریک رات سے مشابہ تھا۔جس کے بعد طلوع فجر اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے یہ بشارت دی تھی کہ اس انتہائی گہری تاریکی کے زمانہ کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی قوت قدسیہ کے طفیل امام مہدی اور مسیح موعود کو مبعوث کرے گا جس کے ذریعہ سچائی کو پہلی سی رفعت اور شان نصیب ہوگی اور دین حق کے کل ادیان پر غلبہ کا وعدہ جو آیت لیظهره علی الدین کلہ میں مذکورہ ہے وہ اس کے زمانہ میں پورا ہوگا۔اس پیشگوئی کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے امام مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی فرمایا اور غلبہ اسلام کی ایک عظیم الشان مہم کی داغ بیل ڈالی۔جس کا ایک پہلو دلوں میں بچے ایمان کو قائم کرنا اور دوسرا پہلو دین سے بے بہرہ دنیا کو آغوش حق میں لانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی خبر دی کہ غلبہ اسلام کا یہ عظیم منصوبہ ایک لمبے عرصہ پر پھیلا ہوا ہے جو قریباً تین سو سال میں اپنے کمال کو پہنچے گا۔چنانچہ آپ نے اس کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا :۔بھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخمریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 ص 67) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ خوشخبری بھی دی کہ آپ کے مشن کی تکمیل کے لئے آپ کے بعد صلى الله اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ کا ظہور فرمائے گا اور دائمی خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی ، جو رسول کریم علی