خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 128
128 صرف ان مقامات پر ہی دیہاتی مبلغ رکھے جائیں جہاں جماعتیں ہیں تو بھی آٹھ سو جماعتیں ہیں۔اگر ہر دیہاتی مبلغ کا حلقہ چار چار جماعتوں پر پھیلا ہوا ہو تو بھی دوسو دیہاتی مبلغ درکار ہوں گے۔لیکن اگر دوسو دیہاتی مبلغ بھی مہیا کئے جائیں تو اُن پر سوالاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔اگر ہر مبلغ کا خرچ پچاس روپیہ بھی سمجھ لیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے دس ہزار روپیہ ماہوار۔یعنی ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ سالانہ۔مگر ابھی ہم اتنا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اس لئے میری تجویز ہے کہ فی الحال پچاس تیار کئے جائیں۔اس کے لئے بھی بیس سے تمیں سال تک کی عمر کے نوجوان جن کی تعلیم مڈل کے درجہ تک ہوا اپنے نام پیش کریں۔چالیس سال تک کی عمر کے وہ لوگ بھی لئے جاسکتے ہیں جو اس کام کے لئے (انوار العلوم جلد 17 ص 492 ) موزوں سمجھے جائیں۔وو ستیارتھ پرکاش“ کے مکمل جواب کی سکیم 1944ء حضرت سید نام مصلح الموعود نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آریہ سماج کے بانی دیانند سرسوتی کی کتاب ستیارتھ پرکاش کا مکمل جواب شائع کیا جائے۔چنانچہ حضور 1944ء کو مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور ملک فضل حسین صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشا د فر مایا:۔”میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ستیارتھ پرکاش کا مکمل جواب لکھا جائے۔اس وقت تک اس کے جس قدر جواب دیئے گئے ہیں وہ سب دفاعی رنگ رکھتے ہیں۔زیادہ تر لوگوں نے ستیارتھ پر کاش کے چودھویں باب کو اپنے سامنے رکھا ہے اور اسی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ضرورت ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب سے شروع کر کے آخر تک مکمل جواب لکھا جائے اور اس جواب میں صرف دفاعی رنگ نہ ہو بلکہ دشمن پر حملہ بھی کیا جائے۔کیونکہ دشمن اس وقت تک شرارت سے باز نہیں آتا جب تک اس کے گھر پر حملہ نہ کیا جائے۔اس کا طریق تو یہ ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے جتنے نسخے شروع سے لے کر اب تک چھپے ہیں ان سب کو جمع کی جائے اور پھر ان نسخوں میں جو جو اختلافات ہیں یا جہاں جہاں آریوں نے ستیارتھ پر کاش میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سب اختلافات واضح کئے جائیں اور کتاب کا ایک باب اس غرض کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔گویا ایک باب ایسا ہو جس کا عنوان مثلا یہی ہو کہ ستیارتھ پر کاش میں تبدیلیاں اور پھر بحث کی جائے کہ آریوں