خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 97
97 تبلیغی تحریکات حضرت مصلح موعودؓ نے منصب خلافت سنبھالتے ہی پہلی شوری میں 12 / اپریل 1914ء کو جو ایجنڈا جماعت کے سامنے رکھا اس میں سب سے بلند مقام تبلیغ کو حاصل ہوا تھا۔آپ نے مجلس شوری کے سامنے منصب خلافت“ کے موضوع پر معرکتہ الآراء تقریرفرمائی اور ابراہیمی دعا وابعث فيهم رسولا کی روشنی میں نہایت لطیف پیرائے میں مقام خلافت ، فرائض خلافت اور تزکیہ نفوس کے طریق پر روشنی ڈالی اور خلافت اور انجمن سے متعلق مسائل پر سیر حاصل بحث کی اور فرمایا:۔وو پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے میں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہوا تھا کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش دین کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پرانا رہا ہے۔غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو اور میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری ان دعاؤں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اس نے مجھے دکھایا۔اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھا دے گا اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذر اذریعے ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے۔کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے۔وہ میرا ہی کام ہوگا“۔پھر اپنی سکیم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا۔