تحریک وقف نو — Page 63
117 116 نہیں تین اول تقویٰ کی بات میں نے کی ہے بچپن سے ان کے دل میں تقویٰ پیدا کریں اور خدا کی محبت پیدا کریں اور دو زبانیں جو سیکھنی ہیں عربی اور اردو وہ تو سب پر قدر مشترک ہیں اس میں کوئی تفریق نہیں کوئی امتیاز نہیں ہر احمدی واقف تو عربی بھی سیکھے گا اور ارور بھی سیکھے گا اس پہلو سے جہاں جہاں انتظامات ہو سکتے ہیں وہاں وہاں وہ انتظامات کریں اور تیاری شروع کر دیں۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اور جب میں نے یہ سوچا کہ ہم تو خدا تعالٰی کے ہاتھوں میں بے طاقت اور بے مشکل وہ مرے ہیں جیسے شطرنج کی بازی یہ کھیلے جاتے ہیں تو مجھے اپنی ایک پرانی رویا یاد آگئی جس کا آج کل کے حالات سے تعلق ہے مجھے یاد نہیں کہ میں نے پہلے آپ کے سامنے بیان کی تھی یا نہیں لیکن دہ ہے دلچسپ اور اب اسکی جو تعبیر ظاہر ہوتی ہے وہ زیادہ واضح ہے جن دنوں میں ایران کا انقلاب آرہا تھا ابھی شروع ہوا تھا 1977-78 کی بات ہے افغانستان میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں ایران میں یہ ان دنوں کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ نظارہ کر رہا ہوں لیکن سب کچھ دیکھنے کے باوجود گویا میں اس کا حصہ نہیں ہوں موجود بھی ہوں دیکھ بھی رہا ہوں لیکن بطور نظارے کے مجھے یہ چیز دکھائی جا رہی ہے ایک بڑے وسیع گول دائرے میں نوجوان کھڑے ہیں اور وہ باری باری عربی میں بہت ہی ترنم کیساتھ ایک فقرہ کہتے ہیں اور پھر انگریزی میں گانے کے انداز میں اسکا ترجمہ بھی اسی طرح ترنم کیساتھ پڑھتے ہیں اور باری باری اس طرح او نا ہوتا ہے منظر پہلے عربی پھر انگریزی پھر عربی پھر انگریزی اور وہ فقرہ جو اس وقت ہوں لگتا ہے جیسے قرآن کریم کی آیت ہے لا يعلم الا هو لا يعلم الا ھو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے کوئی نہیں چاہتا سوائے اس کے اور یہ جو مضمون ہے یہ اس طرح مجھ پر کھلتا ہے کہ نظارے دکھائے جا رہے ہیں میں نے جیسا کہ کہا میں وہاں ہوں بھی اور نہیں بھی ایک پہلو سے سامنے یہ نوجوان گا رہے ہیں اور پھر میری نظر پڑتی ہے عراق کی طرف شام مجھے یاد ہے عراق یاد ہے اور پھر ایران کی طرف پھر افغانستان پھر پاکستان مختلف ملک باری باری سامنے آتے ہیں اور مضمون دماغ میں یہ کھلتا ہے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے جو عجیب واقعات رونما ہو رہے ہیں جو انقلابات آرہے ہیں ان کا آخری مقصد سوائے خدا کے کسی کو پتہ نہیں ہم ان کو اتفاقی تاریخی حادثات کے طور پر دیکھ رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اتفاقا" رونما ہونے والے واقعات ہیں مگر رویا میں جب وہ یہ مل کر گاتے ہیں تو اس سے یہ تاثر زیادہ قومی ہوتا چلا جاتا ہے کہ یہ اتفاقا" الگ الگ ہونے والے واقعات نہیں ہیں بلکہ واقعات کی ایک زنجیر ہے جو تقدیر بنا رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں مگر ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہو رہا ہے لا يعلم الا ھو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا جس کا ہاتھ یہ تقدیر بنا رہی ہے تو یہ وہ رویا تھی جو چوہدری انور حسین صاحب ان دنوں میں تشریف لائے ان کو بھی میں نے سنائی بعض اور دوستوں کو بھی کہ یہ کچھ عجیب سی بات ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑے بڑے عظیم واقعات ان واقعات کے پس پردہ رونما ہونے والے ہیں ان کے پیچھے پیچھے آئیں گے ہم جو اندازے کر رہے ہیں سیاسی ' یہ کچھ اور ہیں جو اصل مقاصد ہیں خدا کے وہ کچھ اور ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ روس کی تبدیل شدہ پالیسی کا گہرا تعلق ہے کچھ سبق انہوں نے وہاں سے سیکھے ہیں کچھ اور ایسی باتیں ان تجربوں میں ظاہر ہوتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں یہ بعد کے عظیم انقلابات پیدا ہونے شروع ہوئے۔پس یہ جتنے بھی واقعات آج کی دنیا میں رونما ہو رہے ہیں ایک دنیا کا متورخ ایک دنیا کا سیاستدان ان کو اور نظر سے دیکھتا ہے اور اور قسم سے سمجھتا ہے مومن کیلئے تو ہر انگلی خدا کی تقدیر کی