تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 92
۔۹۲ آدیں گے۔تا امت کا خاتمہ کر دیں۔کیا خوب عقیدہ ہے۔اسے نادانو ! کیا اس امت کی ایسی ہی پھوٹی ہوئی قسمت اور ایسے ہی بد طالع ہیں کہ ان کے حصہ میں نہیں دجال ہی رہ گئے ر قبال تو تیس مگر طوفان صلیب کے فرد کرنے کے لئے ایک بھی مجدد نہ آسکا۔زہر سے قمت باخدا نے پہلی امتوں کے لئے تو پے در پے نبی اور رسول بھیجے لیکن جب اس امت کی نوبت آئی تو اس کو تیس دجال کی خوشخبری سنائی گئی۔۔۔۔۔۔یہ بھی ظاہر ہے کہ اب تک لاکھوں آدمی مرید ہو چکے جنھوں نے دین اسلام ترک کر دیا۔پس کیا اس درجہ کی ملالت تک ابھی خدا خوش نہ ہوا اور اس کے دل کو سیری نہ ہوئی جب تک اس نے خود اس امت میں صدی کے سر پہ ایک درخیال نہ بھیج دیا کیا کہ مذاب علم کی تاریخ کی گھا اور مذاہب عالم کی تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ خدا کے ما موروں، برگزیدوں اور فرستادوں کا استقبال ہمیشہ تنقیدی نشتروں ، فتنوں اور مخالفت کے طوفان سے ہوتا رہا ہے۔ا سلسلہ انبیاء میں ہمارے و مود یار ه نزول أسبح ص۳۳