تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 84 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 84

۸۴ پھر لکھتے ہیں۔گھر بیٹھ کر احمدیوں کو برا بھلا کہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان اور دیجہ اور مین ممالک میں بھیج رکھتے ہیں ا سکے۔۔موجودہ زمانہ میں تبلیغ اسلام کتنا مشکل کام ہے۔اس کا اندازہ کرنے کے لئے جناب مولوی ظفر علی خانصاحب ہی کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں ٹک کے نامور ادیب چراغ حسن حسرت اپنی کتاب مردم دیدہ میں لکھتے ہیں کہ : ایک دن زمیندار کے دفتر میں کسی نے کہا کہ چین جاپان جرمنی اور فرانس کے لوگ مسلمان ہونے پر آمادہ ہیں۔لیکن انہیں تبلیغ کون کرے؟ اس پر مولوی ظفر علی خانصاحب نے فرمایا۔بات تو آپ نے ٹھیک کہی۔اچھا سالک صاحب اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کیجئیے۔کہ اگر ہم ایک تبلیغی ادارہ کھول لیں تو کیسا ہے ذرا قہر صاحب کو بھی بلوا ہے۔آگئے ہر صاحب ! ہاں تو میں کہ رہا تھا کہ اگر یہاں لاہور میں ایک مرکز کی تبلیغی ادارہ کھول لیا جائے اور اس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلا دی جائیں، تو کیا حرج ہے کوئی دس لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔مہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی گفتنی ہے۔سات کروڑ نہیں آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہوگی اگر ہر سلیمان سے ایک ایک پیسہ وصول کیا جائے۔تو ه زمیندار دسمبر ۱۹۳۶ء بحوالہ کتاب رہنما نے تبلیغ منا