تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 51 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 51

۵۱ ایک گروہ کی رائے میں تکمیل دین اور آفتاب محمدی کے طلوع ہونے کے بعد اب ٹمٹماتے ہوئے چراغوں اور لڑکھڑاتی ہوئی شمعوں کی ضرورت نہیں یعنی اب خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں کسی قسم کی نبوت کا تصور سراسر باطل ہے۔لیکن ایک دوسرے مکتی فکر کے علمبردار جناب محمد حنیف صاحب ندوی مرزائیت نئے زاویوں سے نامی کتاب میں فرماتے ہیں کہ عصر حاضر کے لئے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے میرا مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے نئی شریعت کا امکان تو خیال میں آسکتا ہے۔العینہ ملکی اور بروزی نبوت کا امکان ہرگز نہیں نانا جا سکتا۔ہمارے ناقدین کا علم اجرائے نبوت کے عقیدہ پر تنقید کرتے ہوئے اشتعال کی معراج تک پہنچ جاتا ہے۔یہ حضرات ایک طرف تو بنی کے آنے کا تصور کرنا بھی گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔اور دوسری طرفف لفظ انہی کے بے جا استعمال میں بڑی سخاوت کا مظاہرہ فرماتے ہیں۔چنانچہ کہیں شاعر مشرق علامہ اقبال کو پیغمبر گلشن اور رسول حمین کہا جا رہا ہے ہے کہیں معاذ اللہ معاذ اللہ۔جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمۃ للعالمین سے موسوم کئے جاتے ہیں ہیے کہیں امانت لکھنوی کو خاتم المرسلین" کے لقب سے نواز اخبار ہا ہے۔کسے کہیں مولوی یا اللہ له قندیل ۲۲ را پریل ۱۹۵۵ء سے ترجمان اسلام ۱۵ ستمبر راه ها کے شعر الہند حصہ دوم ( از مولوی عبید السلام ضایت ندویی)