تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 633 of 736

تحدیث نعمت — Page 633

۶۳۳ ی سیکی منزل کو بھی آپکے نام اور رضامندی کی اطلاع کردی جائے۔ان کو تو آپ سے انکار کی توقع نہیں میں ن کی خدمت میں کی گذارش کروں میں نے کہا دی تومیںنے کہا انہوں نے ای او ورور پوچھیں گے آپ نے انکارکی کوئی وسیر بھی بیان کی بانہیں میں نے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اس عہدے کے اختیارات وزیر اعظم کے ہوں گے سوالیہ ایک نو آزاد مک ہے حکمت امام یا ان کی مالیت کی ترتیب اقتصادیانی کی کھانے سے سانایا ہوا ہوگا یہ کام ایسے شخص کاہے جو نتظامی اموری اعلی درجے کی بات رکھتا ہے علاوہ ازیں مں چھ سات سال سے حکومت اور اس کے صفحہ جات سے بالکل الگ تھلک رہا ہوں، میری عمر قریبا 4 سال کی ہے سوالیہ نہایت گرم علاق ہے میری طبیعت سخت گرمی کی برداشت نہیں رکھی اور زنا میں کے عارضے کے سب گرمی میری صحت کے لئے نہایت مضرہے اسلئے میں اپنے آپکو اس ذمہ داری کے اٹھانے کا ہی نہیں سمجھتا۔ا با رایا اور ایک کو تو معلوم کرکے مردہ ہو گا یا انہیں میں نے کہ میں وزیر خارجہ صاحب کانات منون ہوں کہ اس فعل میں انہوں نے مجھے اور کالیکن میں نے ان نا اہلیت اونا قابلیت کی وجوہ آپ کی خدمت میں گذارش کر دی ہیں۔انہوں نے پوچھا آپ کی رائے کے تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں ؟ میں نے کہا نہیں۔رای م م معلم تو که حد اکرام ال صاحب بار من تب بیمار ہیںاور سپتال میں میں میرے ان کے ساتھ کلپس سال سے زائد عرصہ کے دوستانہ مراسم تھے عیادت کیلئے حاضر خدمت ہوا۔پندرہ میں منٹ کے بعد خصت طلب کرنے پر فرمایا۔ڈاکٹروں ے کیا ہو گا پندرہ میں منٹ سے زیادہ نہ کرنا میں نے کہا کچھ ایسی بات تھی۔رایاڈاکٹر تو تو ہی وہ کیا جانیں تمہارے ے دوستوں کی لاقت استند اطمینان و سکون کی بات ہوتی ہے مرے نے ایک ایک کارگر نہ ہے اب آرام سے بیٹھ جاواور اٹھے کانام نہ لینا۔دوران گفتگومیں کہا بین الاقوامی عدالت کیلئے تمہارے دربارہ انتخاب کے معامے میں تمہارے لوگوں سے بڑی وتاہی ہوئی دینی کوئی وجہ نہ تھی ہم کامیا نہ ہوتے میں نے کہا خان بہادر سید اطاعت حسین صاحب اور آغا شاہی صاحب تو بہت تندی سے کوشش کرتے رہے۔فرایا کرتے رہے ہوں گے لیکن اقوام محمد میں مارے مال امان نے نے خود کوئی پیچی نہ لی مکہ اس کے برعکس اس کاری مخالفانہ تھا۔کلام الہصاحب مرے سات اپنے دوستانہ تلقات کی وجہ سے اس کوتاہی پر تاسف تھے لیکن مجھے افسوس تھانہ کہ مجھے یقین تھا کہ۔کار سازه ما به فکر کار یا فکر ما در کار ما آزادی ها حکومت اسپین کو ان کے ایک تنازعہ میں جو میں سردیوں کا موم گذرنے کے بعدمیںپاکستان سے کیمرج کیا بین الاقوامی عدالت میں تھا قانونی مشورہ گیا کیری پینے کے کچھ دن بعد مجے سپانوی وزارت کے میر قانونی ایا کہ جسے بارسلونا میں کہی کے کیس میں میں بیماری کی ہے اور بین الاقوامی عدات چلا میں دائم تھا مشورہ کرنا چاہتے ہیں ان کی خواہش پر میں میڈرڈ گیا اور انہیں ضروری مشورہ دیا۔فیلڈ مارشل محمد ایوب صدر پاکستان کی طرف اقوام متحدہ ایوان میں نیا مارا و انا احب امریکہ تشریف میں پاکستان کے مستقل نمائندے کے عہدہ کی پیش کش نے جاتے ہوے ان میں قیام فرماہوئے مجھے اب