تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 615 of 736

تحدیث نعمت — Page 615

۶/۵ بہبودی اطفال کے محکمہ نے سویڈن کے سایہ کے ایک قانون کے مطابق توب اطفال پر ماری تھا اس بنا پر کہ کپتان ول کی کی اعصابی عارضے میں مبالا نے بھی کی ذات بھی کے نام اور ان کے سپرد کردی کی ان بول نے سویڈن کی عدالت میں روا " ن کا ولی کی جائداد اس کے سپرد کردی۔جب کپتان بول نے بچی کی ذات طلب کی تو محکمہ بہبودی اطفال نے اس بار پیاس کی درخواست رد کردی کی کی اعصابی عارضے کی وجہ سے سر کے قانون کے ماتحت ابھی حفاظتی نظم کی امانت ہے، کپتان وی ے محلے کی اس تجویز کے خلا سویڈ کی عدالتوں میں اور پانی کی لیکن محکم کی تجویز بر قرار رہی۔جولائی 10 میں حکومت ہالینڈ نے حکومت سویڈن کے خلاف دعوی دائرہ کیاکہ سویڈن کے حکم میبودی اطفال ور سین کی عدالتوں کا موقف کی ایک کنونشن کے خلا ہے او استدعاکی کہ عدلت قرارے کہ بیگ کنونشن کی شرائط کے مطابق کپتان بول تولیدی قانون ولایت کے ماتحت اپنی ہی کالی ہے اور یت و بچی کی ذات کا حقدار ہے۔سویڈن کی حکومت کی طرف سے جواب کہا گیاکہ سویڈن کا یہودی اطفال کا قانون ولایت کے قانون میں عارضی نہیں اور جب تک بچی کی بہبودی کے مدنظر اس کا اپنے نہال میں یہاں کی صحت کے لحاظ سے ضروری سمجھا جائے اس کا باپ بحیثیت اس کا ولی ہونے کے بچی کی عدالت کا حقدار نہیں۔اندریں حالات محکمہ مہوری اطفال کا اور سویڈن کی عدالتوں کا موقف شام کی سی کنونیشن کے خلاف نہیں۔بین الاقوامی عدالت نے سویڈن کے جواب کو صیح قراردیا اور فصلہ کیا کہ سویڈن کا شاہ کا قانون حقوق ولایت میں دخل نہیں یا۔یہ بہبودی اطفال کا عام قانون ہے جو سب بچوں پر حاوی ہےاور بیگ کونین کی زد سے ہے جوں کے باہم تبادل نیلا کے دوران میں میں نے چینی بھی ویلنگٹن کو کو اپنے اس نظریئے کا موید پایا کہ مومنین کے نفرہ نمبر میں فوری ضرورت کا استشناکی گیا ہے مکمہ بہبودی اطفال کا اقدام فوری ضرورت کے ماتحت تھا میں راے میں وہ حضرت ختم نہیں ہوئی بھی جارہے جن کے ملک کا اطمینان ہ ورک میں ضرور کے سات بچی کی ذات اس کے نانا کے اور کیا تو وہ ایک کالا و یک نام رکھنے پر حق بجانب ہے۔جی ویلنگٹن کونےاپنے فیصلے کی بار کونیشن کے فقہ منبر پر رکھی اور ی نے ان کی رائے کے ساتھ اتفاق کیا عدا کا فیصلہ ۲۰ نومبر کو صادر ہوا۔حکومت اسرائیل اور حکومت بلغاریہ کا ناریہ کو اسی کے مطابق اسرائیل ہان کمپنی کا اک طیارہ اور وانی یکی می کردی ایس ایل کو بیان کرنا واخوانی موسم یاکسی اور وجہسے ہوا اپنے رسنےسے ذرا ہٹ کر الغاز کے کرہ ہوائی سے پرواز کردیا تا کہ بخاری کی ہوئی فوج نے طیارے کو ولی کا نشانہ بنک نیچے گرادیا۔طیارے کو کرتے ہوئے آگ لگ گئی۔اس کے عمل کے سات افراد اور اکیا دن مسافرسب کے سب لقمہ اجل ہوگئے۔حکمت اسرائیل نے بلغاریہ کی ہوائی فوج کی اس حرکت پر بلغاریہ کی حکومت کے پاس احتجاج کیا اور متعدل افسران کی سنیا اور طیارے کے حملے اورمسافروں کی تلفی کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔حکمت بلغاریہ کا ابتدائی موقف تو ہمدردانہ تھالیکن آخر حکومت اسرائیل کی تسلی نہ ہوسکی اور اس کی طرف سے حکومت "