تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 1 of 736

تحدیث نعمت — Page 1

بسم اللہ الر من انت بینم حمَدَة ووَنُصَلِى عَلى رَسُولِه الكريم حرف اول •• اله العالمين۔میں تیرا مہایت عاجزا اور پر خطابندہ ہوں تو میری ہر کمزوری سر لغزش اور اور تقصیر کو خوب جانتا ہے۔میں تیرے بے پایاں احسانات اور اپنی لا تعداد تقصیروں اور خطاؤں کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہوں۔تیری رحمت کی انتہا نہیں اور میری کمزوریوں کا شمار نہیں۔ساقیا شرمنده ام از لطف بے پایان تو ہے تو مرا پیر کی رہی من بانه خالی می دهم تو جانتا ہے کتنی بارہ مجھ سے کہا گیا کہ میں تیرے انعامات۔تیری پردہ پوشیوں تیری ذرہ نواز یوں کا کچھ ذکر ضبط تحریرہ میں لے آئیں اور ہر بار میری کمزوریوں کا احساس اور یہ خوف کہ میں تیری نظروں میں نہیں بے جا نمائش کا مرتکب نہ ٹھہروں میرے رستے میں روک بنتا رہا۔تیرے فضلوں اور انسانوں کو میں شمار میں نہیں لا سکتا۔تو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے کرم نے مجھے بخشا وہ خالص تیری عطا ہے میلا اس میں کچھ بھی دخل نہیں۔ذہن تو نے عطا کیا۔حافظہ تو نے دیا۔قوئی سب تیری عنایت ہیں۔وسائل سب تیری بخشش ہیں۔خدمت کے موقعے تو نے پیدا کئے۔خدمت کی توفیق تو نے عطا فرمائی۔شفیق، ہمدرد، بہت محبت کر نیو ائے۔مخلص بینک میزاج۔تجھ پر پختہ ایمان رکھنے والے اور توکل کرنے والے۔بڑی خوبیوں والے والدین کو میری تربیت کی توفیق تو نے عطا کی۔ہدایت کا رستہ تو نے دکھایا۔اس پر لڑکھڑاتے ہوئے ہی سہی لیکن تاہم چلنے اور بڑھنے کی توفیق تجھی سے پائی۔اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم