تذکرہ — Page 707
۱۴؍ ستمبر۱۹۰۷ء ’’ لَا عِلَاجَ وَ لَا یُـحْفَظُ۔‘‘۱؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۸مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء ۱۔’’ یَــوْمَ تَـاْتِی السَّمَآءُ بِدُ خَانٍ مُّبِیْنٍ۔‘‘ ۲؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۸مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۲۔’’ اِنَّـا نُبَشِّـرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ۔‘‘۳؎ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۱۸؍ ستمبر۱۹۰۷ء ’’ رؤیا۔فرمایا۔چند روز ہوئے مَیں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ مُرتدین میں داخل ہوگیا ہے۔مَیں اُس کے پاس گیا۔وہ ایک سنجیدہ آدمی ہے۔مَیں نے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔اُس نے کہا کہ مصلحت ِ وقت ہے۔‘‘ ( بدر جلد۶ نمبر ۳۸مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۱۹؍ ستمبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔خدا خوش ہوگیا۔‘‘۴؎ ۲۔پھر مجھے ایک بڑا کاغذ دکھایا گیا اس میں بہت کچھ لکھا تھا مگر میں نے صرف اس قدر پڑھا۔اور پھر آنکھ کھل گئی۔۱ (ترجمہ از ناشر) نہ کوئی علاج ہوسکے گا اور نہ اس کو کسی طرح سے بچایا جاسکے گا۔(نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ الہام بھی صاحبزادہ مبارک احمد کے متعلق ہے جو دو دن بعد پورا ہوگیا۔(بدر مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۲ (ترجمہ از مرتّب) اس دن کو یاد کرو جب آسمان نمایاں طور پر دھواں لائے گا۔۳ (ترجمہ) ہم تجھے ایک حِلم والے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔(بدر مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ میں صرف الہام نمبر ۱ و ۳ درج ہیں جبکہ الحکم مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ میں ان الہامات کی تفصیل بھی درج ہے جو یہ ہے۔’’کئی دنوں سے اِبتلاؤں کا سامنا تھا۔بیس پچیس دن رات تو مَیں سویا بھی نہیں۔آج ذرا سی میری آنکھ لگ گئی تو یہ فقرہ الہام ہوا۔’’خدا خوش ہوگیا۔‘‘ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کریم اِس بات سے بہت خوش ہوا ہے کہ اِس ابتلا میں مَیں پورا اُترا ہوں اور اِس الہام کا یہی مطلب ہے کہ اس ابتلا میں تُو پورا اُترا۔اس کے بعد پھر آنکھ لگ گئی تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت خوشخط خوبصورت کا غذ میرے ہاتھ میں ہے جس پر کوئی پچاس ساٹھ سطریں لکھیں ہوئی ہیں۔مَیں نے اس کو پڑھا ہے مگر اس میں سے یہ فقرہ مجھے یاد رہا ہے کہ ’’ یَـا عَبْدَ اللّٰہِ اِنِّیْ مَعَکَ۔‘‘ یعنی اے خدا کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔اور اس کو پڑھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ گویا خدا کو دیکھ لیا۔‘‘