تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 539 of 1089

تذکرہ — Page 539

۱۹؍ اکتوبر۱۹۰۵ء ۱۔’’ لَا تَقُوْمُوْا وَ لَا تَقْعُدُ۔وْا اِلَّا مَعَہٗ۔لَا تَـرِدُوْا مَوْرِدًا اِلَّا مَعِیْ۔اِنِّیْ مَعَکَ۔وَ مَعَ اَھْلِکَ۔‘‘ ۱؎ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۹ مورخہ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۷ مورخہ۲۴؍ اکتوبر۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۲۔’’ اِنِّیْ مَعَ الرَّحْـمٰنِ اَدُ۔وْرُ‘‘ ۲؎ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۲) ۲۰؍ اکتوبر۱۹۰۵ء ’’یہ خدا کاکام ہے۔اللہ اکبر۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۰ مورخہ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۲۱؍اکتوبر۱۹۰۵ء ۱۔’’ ۱۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَرُوْمُ مَا یَـرُوْمُ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۲۔بدر جلد ۱ نمبر۳۰ مورخہ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۲۔’’۔ہمارا حصہ دے دو۔‘‘ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۲) ۳۔’’ اِنِّیْ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُ۔وْمُ۔‘‘۴؎ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۰ مورخہ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۲۲ ؍اکتوبر۱۹۰۵ء (الف) ’’ رؤیا دیکھا کہ دہلی گئے ہیں تو تمام دروازے بند ہیں۔پھر دیکھا کہ اُن پر قفل لگے ہوئے ہیں۔پھر دیکھا کہ کوئی شخص کچھ تکلیف دینے والی شَے میرے کان میں ڈالتا ہے۔مَیں نے کہا تم مجھے کیا دکھ دیتے ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس سے زیادہ دکھ دیا گیا تھا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۳۰ مورخہ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۸ مورخہ۳۱؍ اکتوبر۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) نہ کھڑے ہو اور نہ بیٹھو مگر اُس کے ساتھ۔نہ اُترو کسی جگہ میں مگر میرے ساتھ۔مَیں تیرے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) سفرِ دہلی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے استخارہ کیا اور اس پر الہام ہوا۔( الحکم مورخہ ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۵) ۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں خدائے رحمٰن کے ساتھ چکر کھاتا ہوں۔۳ (ترجمہ از ناشر) میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور جس بات کا وہ قصد کرے گا اس کا میں قصد کروں گا۔۴ (ترجمہ از مرتّب) مَیں ملامت کرنے والے کو ملامت کروں گا اور تجھے وہ چیز عطا کروں گا جو ہمیشہ کے لئے ہوگی۔