تذکرہ — Page 330
الْمُجَالِـحُوْنَ وَ قَلَّ الْمُتَّقُوْنَ۔وَ تَـجَلّٰی وَقْتُ رَبِّنَا وَ تَـمَّ مَا قَـالَ الـنَّبِیُّوْنَ۔فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ تُـؤْمِنُوْنَ۔اَیُّـھَا النَّاسُ قُوْمُوْا لِلہِ زَرَافَـاتٍ وَ فُرَادٰی فُرَادٰی۔ثُمَّ اتَّقُوا اللہَ وَفَکِّرُوْا کَالَّذِیْ مَا بَـخِلَ وَ مَا عَادٰی۔اَلَیْسَ ھٰذَا الْوَقْتُ وَقْتَ رَحْـمِ اللہِ عَلَی الْعِبَادِ۔وَ وَقْتَ دَفْعِ الشَّـرِّ وَ تَـدَارُکِ عَـطْشِ الْاَکْـبَادِ بِـالْعِـھَادِ۔اَلَیْسَ سَیْلُ الشَّـرِّ قَدْ بَلَغَ اِنْـتِـھَاءَہٗ۔وَ ذَیْلُ الْـجَھْلِ طَوَّلَ اَرْجَـاءَہٗ۔وَ فَسَدَ الْمُلْکُ کُلُّہٗ وَ شَکَرَ اِبْلِیْسُ جُھَلَاءَہٗ۔فَاشْکُـرُوا اللہَ الَّذِیْ تَـذَکَّـرَکُمْ وَ تَذَکَّـرَ دِیْنَکُمْ وَ مَا اَضَاعَہٗ۔وَ عَصَمَ حَرْثَکُمْ وَزَرْعَکُمْ وَ لُعَاعَہٗ۔وَ اَنْـزَلَ الْمَطَرَ وَ اَکْـمَلَ اَبْضَاعَہٗ۔وَ بَـعَـثَ مَسِیْحَہٗ لِدَفْعِ الضَّیْرِ۔وَمَـھْدِیَّہٗ لِاِفَاضَۃِ الْـخَیْرِ۔وَ اَدْخَلَـکُمْ فِیْ زَمَانِ اِمَامِکُمْ بَعْدَ زَمَانِ الْـغَیْـرِ۔اَیُّـھَا الْاِخْوَانُ اِنَّ زَمَانَـنَا ھٰذَا یُضَاھِیْ شَھْرَنَـا ھٰذَا بِـالتَّـنَاسُبِ التَّآمِّ۔فَاِنَّہٗ اٰخِرُ الْاَزْمِنَۃِ وَاِنَّ ھٰذَا الشَّھْرَ اٰخِرُ الْاَشْھُرِ مِنْ شُھُوْرِ الْاِسْلَامِ۔وَ کِلَاھُمَا قَرِیْبٌ مِّنَ الْاِخْتِتَامِ۔بقیہ ترجمہ۔اور پرہیزگار کم ہوگئے اور ہمارے خدا کی تجلّی کا وقت ظاہر ہوگیا اور وہ سب جو کچھ نبیوں نے کہا تھا ظہور میں آیا۔پس اس کے سوا کس بات کو مانو گے۔اے لوگو! خدا کے لئے تم سب کے سب یا اکیلے اکیلے خدا کا خوف کر کے اُس آدمی کی طرح سوچو جو نہ بخل کرتا ہے اور نہ دشمنی۔کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ خدا بندوں پر رحم کرے ؟ اور کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ بدی کو دفع کیا جائے اور جگروں کی پیاس کا مینہ برسانے سے تدارک کیا جائے؟ کیا بدی کا سیلاب اپنی انتہا کو نہیں پہنچا؟ اور جہالت کے دامن نے اپنے کناروں کو نہیں پھیلایا؟ اور ملک فاسد ہوگیا اور شیطان نے جاہلوں کا شکریہ ادا کیا پس اس خدا کا شکر کرو جس نے تم کو یاد کیا اور تمہارے دین کو یاد کیا اور ضائع ہونے سے محفوظ رکھا اور تمہارے بوئے ہوئے کو اور تمہاری زراعت کو آفتوں سے بچایا اور مینہ نازل فرمایا اور اس کے سرمایہ کو کامل کیا۔اور اپنے مسیح کو ضرر کے دور کرنے کے لئے اور اپنے مہدی کو خیر اور نفع پہنچانے کے لئے بھیجا اور تمہیں تمہارے امام کے زمانہ میں غیر کے زمانہ کے بعد داخل کیا۔اے بھائیو! یہ ہمارا زمانہ ہمارے اس مہینے سے مناسبت تام رکھتا ہے کیونکہ یہ آخری زمانہ ہے اور یہ مہینہ بھی اسلام کے مہینوں میں سے آخری ہے اور دونوں ختم ہونے کے قریب ہیں۔