تذکرہ — Page 6
۱۸۶۵ء(قریباً) ’’تیس برس کا عرصہ ہوا کہ مجھے صاف صاف مکاشفات کے ذریعہ سے اُن ؎۱کے حالات دریافت ہوئے تھے۔اگر میں جزماً کہوں تو شاید غلطی ہو مگر میں نے اُسی زمانہ میں ایک دفعہ عالمِ کشف میں اُن سے ملاقات کی یا کوئی ایسی صورتیں تھیں جو ملاقات سے مشابہ تھیں۔چونکہ زمانہ بہت گزر گیا ہے اس لئے اصل صورت اُس کشف کی میرے ذہن سے فرو ہوگئی ہے۔‘‘ (ست بچن۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۱۴۱ حاشیہ) ۱۸۶۵ء(قریباً) ’’چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلدی مر گیا اس لئے پہلے ہی سے اُس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔ثَـمَانِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذَالِکَ۔اَوْتَزِیْدُ عَلَیْہِ سِنِیْنًا۔وَتَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا۔یعنی تیری عمر اَسّی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا۔اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہوچکا ہے۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۸،۴۱۹ و ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۶) ۱۸۶۸ء ’’ ایک مقدمہ میں کہ اس عاجز کے والد مرحوم کی طرف سے اپنے زمینداری حقوق کے متعلق کسی رعیت پر دائر تھا۔اِس خاکسار پر خواب میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اِس مقدمہ میں ڈگری ہوجائے گی چنانچہ اس عاجز نے وہ خواب ایک آریہ؎۲ کو کہ جو قادیان میں موجود ہے بتلا دی۔پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ اخیر تاریخ پر صرف مدّعا علیہ معہ اپنے چند گواہوں کے عدالت میں حاضر ہوا اور اِس طرف سے کوئی مختار وغیرہ حاضر نہ ہوا۔شام کو مدّعا علیہ اور سب گواہوں نے واپس آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہوگیا۔اِس خبر کو سنتے ہی وہ آریہ تکذیب اور استہزاء سے پیش آیا۔اُس وقت جس قدر قلق اور کرب گزرا بیان میں نہیں آسکتا کیونکہ قریب قیاس معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ایک گروہِ کثیر کا بیان جن میں بے تعلق آدمی بھی تھے خلاف واقعہ ہو۔اس سخت حزن اور غم کی حالت میں نہایت شدّت سے الہام ہوا کہ جو آ ہنی میخ کی طرح دل کے اندر داخل باوا نانک رحمۃ اللہ علیہ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ لالہ شرمپت (بحوالہ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۶) (مرزا بشیر احمد)