تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 1089

تذکرہ — Page 260

’’جب مَیں مضمون ختم کرچکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۹۱) ۱۸۹۶ء ’’مجھے کشفی طور پر عین بیداری میں بارہا بعض مُردوں کی ملاقات کا اتفاق ہوا ہے اور مَیں نے بعض فاسقوں اور گمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھا ہے کہ گویا وہ دھوئیں سے بنایا گیا ہے۔‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۰۵) بقیہ حاشیہ۔کا مضمون سب پر غالب رہا اور انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ۱؎ اور پنجاب اَبزرور اور دیگر اخباروں نے بڑے زور سے گواہی دی کہ ہمارا مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۷۳) (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اس بارہ میں اس مذہبی کانفرنس کے سکرٹری دھنپت رائے بی اے ایل ایل بی پلیڈر چیف کورٹ پنجاب ’’رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب‘‘ (دھرم مہوتسو) میں تحریر فرماتے ہیں۔’’پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ڈیڑھ بجے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھرنے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پُر ہوگیا۔اس وقت کوئی سات اور آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔مختلف مذہب و ملل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتدبہ اور ذی علم آدمی موجود تھے اگرچہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤسا، عمائدِ پنجاب، علماء، فضلاء، بیرسٹر، وکیل، پروفیسر ،اکسٹرا اسسٹنٹ، ڈاکٹر۔غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔ان لوگوں کے اِس طرح جمع ہوجانے اور نہایت صبروتحمل کے ساتھ جوش سے برابر پانچ چار گھنٹہ اُس وقت ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان ذِی جاہ لوگوں کو کہاں تک اس مقدّس تحریک سے ہمدردی تھی… اِس مضمون کے لئے اگرچہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی تھے لیکن حاضرین جلسہ کو عام طور پر اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون نہ ختم ہو تب تک کارروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جاوے۔ان کا ایسا فرمانا عین اہلِ جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشاء کے مطابق تھا کیونکہ جب وقتِ مقررہ کے گزرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دے دیا تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرۂ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا …یہ مضمون قریباً چار گھنٹہ میں ختم ہوا اور شروع سے اخیر تک یکساں دلچسپی و قبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔‘‘ (رپورٹ جلسۂ اعظم مذاہب (دھرم مہوتسو) صفحہ ۷۹، ۸۰) ۱ اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور اور پنجاب ابزرور۲ اور ۹؍جنوری ۱۸۹۷ء (ناشر)