تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 1089

تذکرہ — Page 258

۱۸۹۶ء ’’ اِنِّی مُرْسِلُکَ اِلٰی قَوْمٍ مُّفْسِدِیْنَ۔وَاِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔وَاِنِّیْ مُسْتَخْلِفُکَ اِکْرَامًا کَمَا جَرَتْ سُنَّتِیْ فِی الْاَوَّلِیْنَ۔‘‘۱؎ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ۷۹) ۱۸۹۶ء ’’ اِنَّکَ اَنْتَ مِنِّی الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ۔وَاُرْسِلْتَ لِیَتِمَّ مَا وَعَدَ مِنْ قَبْلُ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔اِنَّ وَعْدَ ہٗ کَانَ مَفْعُوْلًا وَھُوَ اَصْدَ قُ الصَّادِقِیْنَ۔‘‘۲؎ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۸۰) ۱۸۹۶ء ’’ اِنَّکَ اَنْتَ ھُوَ فِیْ حُلَلِ الْبُرُوْزِ۔وَھٰذَا ھُوَالْوَعْدُ الْـحَقُّ الَّذِیْ کَانَ کَالسِّـرِّ الْمَرْمُوْزِ۔فَاصْدَعْ بِـمَا تُؤْمَرُ وَلَا تَـخَفْ اَلْسِنَۃَ الْـجَاھِلِیْنَ وَ کَذَالِکَ جَرَتْ سُنَّۃُ اللّٰہِ فِی الْمُتَقَدِّمِیْنَ۔‘‘۳؎ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۸۰) ۱۸۹۶ء ’’ یَـآ اَحْـمَدُ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَآئِکَ اِلَّا فِیْ شُـرَکَآئِکَ۔‘‘ ۴؎(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۱۸۱) یکم اکتوبر۱۸۹۶ء ’’ کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مُرسلہ آں محبّ مجھ کو پہنچا۔اُس کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ اس روپیہ کے پہنچنے سے تخمیناً سات گھنٹہ پہلے مجھ کو خدائے عزّوجل نے اس کی اطلاع دی۔سو آپ کی اس خدمت کے لئے یہ اجر کافی ہے کہ خدا تعالیٰ آپ سے راضی ہے اس کی رضا کے بعد اگر تمام جہان ریزہ ریزہ ہوجاوے تو کچھ پرواہ نہیں۔یہ کشف اور الہام آپ ہی کے بارہ میں مجھ کو ۲دو دفعہ ہوا ہے۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ۔اَلْـحَمْدُ لِلہِ۔‘‘ (ازمکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۴۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں تجھے ایک مفسد قوم کی طرف بھیجتا ہوں اور مَیں تجھے لوگوں کا امام بناتا ہوں اور مَیں تجھے اکرام سے خلیفہ مقرر کرتا ہوں جیسا کہ پہلے لوگوں میں میری سنّت رہی ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تُو ہی میری طرف سے مسیح ابن ِ مریم ہے اور اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تا وہ جو وعدہ تیرے ربِّ اکرم نے پہلے سے کیا ہوا تھا۔وہ پورا ہو۔اس کا وعدہ ضرور پورا ہوتا ہے اور وہ سب سے بڑھ کر سچا ہے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) تُو بروزی طور پر وہی (یعنی عیسیٰ) ہے اور یہی وہ سچا وعدہ ہے جو رازِ پوشیدہ کی طرح چلا آتا تھا۔پس جو حکم تجھے دیا جاتا ہے اُسے کھول کر لوگوں کو پہنچا اور جاہل لوگوں کی زبان درازی سے مت ڈر اور اسی طرح پہلے لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاری رہی ہے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اے احمد ! مَیں تیری تمام دعائیں قبول کروں گامگر تیرے شریکوں کے بارے میں نہیں۔