تذکرہ — Page 238
(ح) ’’خُذْھَاوَ لَا تَـخَفْ سَنُعِیدُ ھَا سِیْرَتَـھَا الْاُوْلٰی۔‘‘؎۱ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲) (ط) ’’ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ۔‘‘ ؎۲ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۱، ۱۲) ۲۹؍ستمبر۱۸۹۴ء ’’آخر اے مُردار! دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔اے عَدُوَّ اللہ! تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے۔بخدا مجھے اسی وقت ۲۹؍ستمبر ۱۸۹۴ء کو تیری نسبت الہام ہوا ہے۔اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَ بْتَرُ۔‘‘ ؎۳ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد۹صفحہ ۸۵،۸۶) ترجمہ۔تیرا بد گو بے خیر ہے یعنی خدا اسے بے نشان کردے گااور وہ نامراد مرے گا۔(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۵۸) ٭ ۳۰؍ستمبر۱۸۹۴ء (الف) ’’اِنَّـا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲) ترجمہ۔ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح دی ہے۔(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۶۱) (ب) ’’ اَنْتَ مَعِیْ وَمَنْ مَّعَکَ۔‘‘۔؎۴ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲) ٭ ۳؍اکتوبر۱۸۹۴ء ’’ قَدْ جَآءَکُمُ الْفَتْحُ۔‘‘؎۵ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲) ٭ ۵؍اکتوبر۱۸۹۴ء ’’یَـا نُـوْحُ اَسِـرِّ رُؤْیَـاکَ۔‘‘ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳) ترجمہ۔اے نوح! اپنے خواب کو پوشیدہ رکھ۔(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۶۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اسے پکڑلے اورخوف مت کر۔ہم اس کی پہلی خصلت پھر اُس میں ڈال دیں گے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) آج مَیں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کردیا ہے۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ شخص یعنی سعد اللہ لدھیانوی جنوری ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں نمونیا پلیگ سے مَرگیا۔اس کے مَرنے کے کچھ عرصہ بعد یعنی ۱۲؍جولائی ۱۹۲۶ء کو اس کا اکلوتا بیٹا محمودؔنامی بھی جو اِس الہام سے پہلے کا تھا موضع کوم کلاں ضلع لدھیانہ میں لاولد فوت ہوگیا اور اِس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق سعد اللہ کی نسل منقطع ہوگئی۔۴ (ترجمہ از مرتّب) تُو میرے ساتھ اور ان کے ساتھ ہے جو تیرے ساتھ ہیں۔۵ (ترجمہ از مرتّب) فتح تمہارے پاس آگئی ہے۔