تذکرۃ المہدی — Page 275
تذكرة المهدي 275 تمنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرمان نہیں سنا کہ خاص تم سے مخاطب ہو کے فرمایا کہ تم اس ولد موعود کو پہچان لینا مجھے نہیں فرمایا وہ ہنگامہ محشر تم دیکھو گے اور موعود کو بھی سو الحمد للہ وہ ہنگامہ محشر اور پسر موعود میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا اور مولود مسعود کو پہچانا۔ایک دفعہ ایک مولوی صاحب پٹنہ عظیم آباد کے رہنے والے جن کا نام مجھے اس وقت یاد نہیں رہا ساٹھ سال کی عمر میں اچھے مضبوط تھے قادیان شریف میں پنجاب کی سیر کرتے کرتے آگئے اور حضرت اقدس کی خدمت میں ارادت سے دو مہینہ تک رہے بڑے ظریف اور خوش طبع ہنس مکھ تھے ان دنوں میں وہ ایک کتاب لکھ رہے تھے وہ عربی اور اردو کے الفاظ ہم معنی اپنے خیال میں جمع کرتے تھے بہت سے الفاظ انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کو سنائے اور زبان سے بہت کچھ بیان کیا کرتے تھے حضرت اقدس علیہ السلام ان کی باتوں کو سنکر ہنستے لیکن مولوی سید محمد احسن صاحب کو ان کی باتیں سن کر تعجب ہوتا اور ہنسا کرتے اس کتاب میں کچھ قواعد استاد و شاگرد کے بھی دیکھے اور سنے وہ کتاب میں نے بھی دیکھی ہے اچھی ضخیم کتاب تھی ان کا بیان تھا کہ عربی سے ہندی الفاظ بدلے یا ہندی سے عربی اور وہ ہمارے بزرگوں سے خوب واقف تھے چنانچہ ایک روز حقیقی داد! حضرت محمد رمضان شاہ صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی حضرت مخدوم احمد عرف دھو من شاہ صاحب کا ذکر بھی کیا ان کے طرز کلام۔معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے بزرگوں سے خاص ارادت رکھتے تھے اور انکی کرامت بھی بیان کیا کرتے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ پنج وقتہ نماز پڑھا کرتے تھے اور دلی ارادت سے آپ کی باتیں سنتے تھے اور کہتے تھے کہ ملک پنجاب میں قادیان ایک ایسی بستی ہے کہ جہاں علم اور صنعت و حرفت یا کوئی تجارت گاہ نہیں دینی تو دینی دنیاوی حیثیت بھی کسی قسم کی نہیں اور پھر حضرت صاحب کی یہ حالت ہے کہ تحصیل علم کے لئے کسی شہر میں تشریف نہیں لے گئے میرے