تذکرۃ المہدی — Page 129
تذكرة ادری 129۔حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے رکھ دیا آپ نے پڑھا اور فرمایا دیکھو ایک تونسوی متکبر اور یہ کیسے منکسر المزاج خدا کی قدرت ہے خیر جانے دو لیکن مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو ضرور لکھو اور حجت پوری کرو اور یہ لکھو کہ اچھا ہم بطریق تنزل تقریری مباحثہ ہی منظور کرتے ہیں مگر اس شرط سے کہ آپ تقریر کرتے جائیں اور دوسرا شخص آپ کی تقریر کو لکھتا جاوے اور جب ہم تقریر کریں تو ہماری جوابی تقریر کو بھی دوسرا شخص لکھتا جارے اور جب تک ایک کی تقریر ختم نہ ہو دے تو دوسرا فریق بالمقابل یا اور کوئی دوران تقریر میں نہ بولے پھر وہ دونوں تقریریں چھپ کر شائع ہو جائیں لیکن بحث مقام لاہور ہونی چاہئے کیوں کہ لاہور دار العلوم ہے اور ہر علم کا آدی وہاں پر موجود ہے۔میں نے یہی تقریر حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کی مولوی صاحب کے پاس بھیج دی مولوی صاحب نے لکھا کہ تقریر صرف زبانی ہوگی لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہوگی اور جو جس کے جی میں آئے گا حاضرین میں رفع اعتراض دشک کے لئے بولے گا میں لاہور نہیں جاتا مرزا بھی سہارنپور آجائے اور میں بھی سہارنپور آجاؤ نگا حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا بودا پن ہے اور کیسی پست ہمتی ہے کہ اپنی تحریر نہ دی جائے تحریر میں بڑے بڑے فائدے ہیں۔کہ حاضرین دعائین اور نزدیک و دور کے آدمی بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور فیصلہ کر سکتے ہیں زبانی تقریر محدود ہوتی ہے جو حاضرین اور سامعین تک ہی رہ جاتی ہے اور حاضرین و سامعین بھی زبانی تقریر سے پورا فائدہ اور کامل فیصلہ نہیں کر سکتے مولوی صاحب کیوں تحریر دینے سے ڈرتے ہیں ہم بھی تو اپنی تحریر دیتے ہیں گویا ان کا منشا یہ ہے کہ بات بیچ بیچ میں خلط مبحث ہو کر رہ جارے اور گڑیڑ پڑ جاوے اور سہارنپور میں مباحثہ کا ہونا مناسب نہیں ہے سہارنپور والوں میں فیصلہ کرنے یا حق و باطل کی سمجھ نہیں ہے۔لاہور آج دار العلوم اور مخزن علم ہے اور ہر ایک ملک اور شہر کے لوگ اور ہر مذ ہب وملت