تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 753 of 862

تذکار مہدی — Page 753

تذکار مهدی ) 753 روایات سید نا محمود ) جماعتوں سے نہیں ملنا چاہئے۔تاکہ ہم غافل ہو کر اپنا فرض جو تبلیغ اسلام کا ہے بھول نہ جائیں جس طرح دوسرے مسلمان بھول گئے ہیں اسلام میں پہلے ہی سپاہیوں کی کمی ہے۔اگر تھوڑے بہت سپاہی جو اسے میسر ہیں وہ بھی ست ہو جائیں تو انہوں نے اسلام کی طرف سے دشمنوں کا کیا مقابلہ کرنا ہے۔۔۔۔۔قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ ذوالقرنین سے بعض قوموں نے درخواست کی کہ یا جوج ماجوج نے ہمارے علاقوں میں بڑا فساد برپا کر رکھا ہے آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک روک بنا دیں تا کہ وہ ہم میں داخل ہو کر کوئی خرابی پیدا نہ کر سکیں۔چونکہ اس زمانہ کے ذوالقرنین بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اس لئے بالکل ممکن ہے کہ ذوالقرنین کے دیوار حائل کرنے سے مراد اس زمانہ میں مغربیت اور اسلام میں ہی دیوار حائل کرنا ہو اور دو قوموں سے مراد دو قسم کے جذبات اور قومی خیالات افکار ہوں۔بہر حال ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربیت اور اسلام کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل کر دیں جس کے بعد مغربیت کے لئے ہمارے اندر داخل ہونے کا راستہ کھلا نہ رہے اور اسلامی فوج ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہو جائے جس پر شیطان کا کوئی حملہ کارگر نہ ہو سکے۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 522 تا524) رشتہ ناطہ کے لئے رجسٹر کی تجویز اہم مسئلہ جس پر میں آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نکاح کا سوال ہے اور اسی کے ضمن میں کفو کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو شادیوں کے متعلق جو مشکلات پیش آتی ہیں۔مجھے پہلے بھی ان کا علم تھا لیکن اس 9ماہ کے عرصہ میں تو بہت ہی مشکلات اور رکاوٹیں معلوم ہوئی ہیں اور لوگوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ہماری جماعت کو سخت تکلیف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھے جائیں اور آپ نے یہ رجسٹر کسی شخص کی تحریک پر کھلوایا تھا۔اس نے عرض کیا تھا کہ حضور شادیوں میں سخت دقت ہوتی ہے آپ کہتے ہیں کہ غیروں سے تعلق پیدا نہ کرو، اپنی جماعت متفرق ہے اب کریں تو کیا کریں؟ ایک ایسا رجسٹر ہو جس میں سب ناکتخدا لڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوں تا رشتوں میں آسانی ہو۔حضور سے جب کوئی درخواست کرے تو اس رجسٹر سے معلوم کر کے اس کا رشتہ کروا دیا