تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 751 of 862

تذکار مہدی — Page 751

تذکار مهدی ) 751 روایات سید نا محمود لوگوں کے لئے نمونہ کے طور پر پیدا کیا ہوتا ہے۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہے کہ کسی نے ایک بزرگ سے سوال کیا کہ کتنے رپوؤں پر زکوۃ فرض ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے لئے مسئلہ ہے کہ تم چالیس روپے میں سے ایک روپیہ زکوۃ دو۔اُس نے کہا۔” تمہارے لیئے کا کیا مطلب ہے۔کیا زکوٰۃ کا مسئلہ بدلتا رہتا ہے؟ انہوں نے کہا۔ہاں۔تمہارے پاس چالیس روپے ہوں تو اُن میں سے ایک روپیہ زکوۃ دینا تمہارے لئے ضروری ہے۔لیکن اگر میرے پاس چالیس روپے ہوں تو مجھ پر اکتالیس روپے دینے لازمی ہیں کیونکہ تمہارا مقام ایسا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کماؤ اور کھاؤ۔لیکن مجھے وہ مقام دیا ہے کہ میرے اخراجات کا وہ آپ کفیل ہے اگر بیوقوفی سے میں چالیس روپے جمع کرلوں تو میں وہ چالیس روپے بھی دونگا اور ایک روپیہ جرمانہ بھی دوں گا۔غرض بعض لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صرف دین کی طرف اپنی توجہ رکھیں لیکن باقی دنیا کا صرف یہی مقام ہے کہ وہ دنیا کمائیں اور اپنے مال اور وقت کا کچھ حصہ مناسب نسبیت کے ساتھ عبادت اور دین کے کاموں میں بھی لگائیں وہ ذکر الہی کریں۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 546) الگ جماعت بنانے کی وجہ فساد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہی تھے۔مسیح موعود علیہ السلام نے تو آ کر اصلاح کی چوٹ لگانے والا فسادی ہوتا ہے یا ڈاکٹر جو نشتر لے کر علاج پر آمادہ ہوتا ہے؟ ایک شخص کا بخار سے منہ کڑوا ہو ڈاکٹر کو نین دے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ظالم نے منہ کڑوا کر دیا۔اگر ڈاکٹر بلغم کو نہ نکالتا تو جسم کی خرابی بڑھ جاتی بلغم نکال دینے پر اعتراض کیسا؟ ہڈی ٹوٹی رہتی اگر زخم کو نشتر سے صاف نہ کیا جاتا اس پر جلن آمیز دوائی نہ چھڑ کی جاتی تو مریض کی حالت کس طرح بہتر ہوسکتی۔اس کی تو جان خطرہ میں پڑ جاتی اس صورت میں کس طرح کوئی ڈاکٹر کو ملزم بنا سکتا ہے۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اسی تفرقے کے متعلق سوال کیا۔آپ نے فرمایا۔اچھا بتاؤ۔اپنا اچھا دودھ سنبھالنے کے لئے دہی کے ساتھ ملا کر رکھتے ہیں یا علیحدہ ؟ ظاہر ہے کہ دہی کے ساتھ اچھا دودھ ایک منٹ بھی اچھا نہیں رہ سکتا۔پس فرستادہ جماعت کا درماندہ جماعت سے علیحدہ کیا جانا ضروری تھا۔جس طرح بیمار سے پر ہیز نہ ہو تو تندرست بھی ساتھ گرفتار ہو جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ روحانی بیماروں سے فرستادہ