تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 862

تذکار مہدی — Page 710

تذکار مهدی ) 710 روایات سیّد نا محمود نا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے نسخے بھی تیار ہو کر استعمال ہوتے تھے اور انگریزی دوائیاں بھی مگر کھانسی بڑھتی ہی جاتی تھی۔یہ 1907 ء کا واقعہ ہے اور عبدالحکیم مرتد نے آپ کی کھانسی کی تکلیف پڑھ کر لکھا تھا کہ مرزا صاحب سل کی بیماری میں مبتلاء ہو کر فوت ہوں گے اس لئے ہمیں کچھ یہ بھی خیال تھا کہ غلط طور پر بھی اسے خوشی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔مگر آپ کو کھانسی کی تکلیف بہت زیادہ تھی اور بعض اوقات ایسا لمبا او چھوا تا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا ایسی حالت میں باہر سے کوئی دوست آئے اور تحفہ کے طور پر پھل لائے میں نے وہ حضور کے سامنے پیش کر دیئے آپ نے انہیں دیکھا اور فرمایا کہ دو جزاک اللہ اور پھر ان میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا اٹھایا اور میں چونکہ دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا اس لئے شاید مجھے سبق دینے کے لئے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے میں نے کہا اچھا تو نہیں ہوتا مگر آپ مسکرا پڑے اور چھیل کر کھانے لگے۔میں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز کھانسی میں اچھی نہیں آپ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے میں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہئے اس پر آپ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہوگئی۔چنانچہ کھانسی اسی وقت جاتی رہی حالانکہ اس وقت نہ کوئی دوا استعمال کی اور نہ پر ہیز کیا بلکہ بد پرہیزی کی اور کھانسی بھی دور ہو گئی اگر چہ اس سے پہلے ایک مہینہ علاج ہوتا رہا تھا اور کھانسی دور نہ ہوئی تھی تو یہ البی تصرف ہے۔یوں تو بد پر ہیزی سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور علاج سے صحت میں ہوتی ہے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے دخل بھی دے دیتا ہے اور دعا کا ہتھیار اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جا کر کہے کہ میں آزادی نہیں چاہتا۔میں اپنے حالات سے تنگ آ گیا ہوں آپ مہربانی کر کے میرے معاملات میں دخل دیں اور اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے کہ بندہ متوکل ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کے معاملات میں دخل دوں تو وہ دیتا ہے۔پس گو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دی ہے مگر وہ دخل بھی دیتا ہے۔بچوں کی صحت کی طرف توجہ (الفضل مورخہ 17 جولائی 1942 ء جلد 36 نمبر 164 صفحہ 3) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض بچوں کی صحت عموماً ماؤں کے وہم کی وجہ سے ٹھیک رہتی ہے۔اسے ذرا بھی کوئی تکلیف ہو تو ماں اسے انتہائی سمجھ لیتی۔