تذکار مہدی — Page 596
تذکار مهدی ) 596 روایات سید نا محمود ہیں پہلے درس سن لیں پھر حقہ پینا۔ہم نے کہا۔چلواب قادیان آئے ہیں تو حدیث شریف کا بھی درس سن لیں۔حدیث کا درس سن کر آئے تو ایک شخص نے کہا۔کھانا بالکل تیار ہے پہلے کھانا کھالیں۔ہم نے کہا ٹھیک بات ہے کھانے سے فارغ ہو کر پھر اطمینان سے حقہ پیئیں گے۔ابھی کھانا کھا کر بیٹھے ہی تھے کہ کسی نے کہا ظہر کی اذان ہو چکی ہے ہم نے کہا اب آئے ہیں چلو قادیان میں نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔ظہر کی نماز پڑھ چکے تو مرزا صاحب بیٹھ گئے اور باتیں وہاں شروع ہو گئیں۔ہم نے کہا چلو مرزا صاحب کی گفتگو بھی سن لیں کہ کیا فرماتے ہیں پھر چل کر حقہ پیئیں گے۔وہاں سے باتیں سن کر آئے اور آ کر پیشاب پاخانہ سے فارغ ہو کر اطمینان سے بیٹھے اور حقہ سلگایا کہ اب تو سب طرف سے فارغ ہیں اب تسلی سے حقہ پیتے ہیں لیکن ابھی دو کش بھی حقے کے نہ لگائے تھے کہ کسی نے کہا عصر کی اذان ہو چکی ہے نماز پڑھ لو۔حقہ کو اسی طرح چھوڑ کر ہم عصر کی نماز کو چلے گئے عصر کی نماز پڑھی تو خیال تھا کہ اب تو شام تک حقہ کے لئے آزادی ہو گی کہ کسی نے کہا بڑے مولوی صاحب مسجد اقصیٰ میں چلے گئے ہیں اور وہاں قرآن کریم کا درس ہو گا۔ہم نے سمجھا تھا کہ اب شام تک حقہ پینے کا موقع ملے گا۔پر خیر۔اب آئے ہیں تو قرآن کریم کا درس بھی سن ہی لیتے ہیں۔بڑی مسجد میں گئے درس سنا اور سن کر واپس آئے تو مغرب کی اذان ہوگئی اور حقہ اسی طرح دھرا رہا اور ہم مغرب کی نماز کے لئے چلے گئے، نماز پڑھ کر پھر مرزا صاحب بیٹھ گئے اور ہم بھی مجبوراً بیٹھ گئے کہ مرز اصاحب کی باتیں سن لو۔آخر وہاں سے آئے اور سوچا کہ اب شاید حقہ پینے کا موقع ملے لیکن کھانا آ گیا اور کہنے لگے کھانا کھالو پھر حقہ پینا۔شام کا کھانا بھی کھا لیا اور خیال کیا کہ اب تسلی سے حقہ کے لئے بیٹھیں گے کہ عشاء کی اذان ہوگئی اور لوگ کہنے لگے نماز پڑھ لو۔خیر عشاء کی نماز کے لئے بھی چلے گئے۔نماز پڑھ کر خدا کا شکر کیا کہ اب تو اور کوئی کام نہیں رہا۔اب پوری فرصت ہے اور حقہ پیتے ہیں لیکن ابھی حقہ سلگایا ہی تھا کہ پتہ لگا کہ باہر سے آنے والے مہمانوں کو عشاء کے بعد بڑے مولوی صاحب کچھ وعظ ونصیحت کیا کرتے ہیں۔اب بڑے مولوی صاحب وعظ کرنے لگ گئے وہ ابھی وعظ کر ہی رہے تھے کہ سفر کی کوفت اور تکان کی وجہ سے ہم کو بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی پھر پتہ نہیں کہ ہم کہاں ہیں اور ہمارا حقہ کہاں ہے۔صبح جو اٹھا تو میں تو اپنا بستر اٹھا کر وہاں سے بھا گا کہ قادیان میں شریف انسانوں کے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 498-497)