تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 862

تذکار مہدی — Page 583

تذکار مهدی ) 583 روایات سید نا محمود تھی اور ان کے کلام میں اتنی فصاحت تھی کہ ان کی تقریر سننے والا آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا آواز اتنی سریلی تھی کہ جب آپ قرآت کرتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد گا رہے ہیں۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت سے اتنی شدید محبت تھی کہ اس محبت کا اندازہ اس شخص کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا۔جس نے آپ کو دیکھا اور آپ سے باتیں کی ہوں۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے جسم کے ذرے ذرے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت داخل ہوگئی ہے۔لیکھرام کے قتل کے واقعہ کے متعلق ایک دفعہ وہ مسجد کے محراب میں کھڑے تقریر کر رہے تھے۔میں اس وقت چھوٹا تھا۔لیکن وہ نظارہ مجھے اب تک یاد ہے ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سوٹا تھا۔جسے پنجابی میں کھونڈ کہتے ہیں۔انہوں نے لیکھرام کی شوخیوں اور دیدہ دلیریوں کا ذکر کیا اور پھر کہا کہ لیکھرام کی ان دیدہ دلیریوں کو دیکھ کر ایک دبلا پتلا انسان جو کہ ہر وقت بیمار رہتا ہے۔اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقابلہ کے لئے نکلا اور اس نے لیکھرام پر ایسے زور کے ساتھ حملہ کیا کہ اس بھڑوے جیہا آدمی نوں چک کے ایں ماریا کہ اس دا نام یا نشان وی نہ رہیا۔یعنی اسلام کے اس دبلے پتلے سپاہی نے ہندوؤں کے موٹے کیے جیسے پہلوان کو یوں اٹھا کر زمین پر گرایا کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔گویا انہوں نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے اس روحانی مقابلے کو ایک جسمانی مقابلہ سے تشبیہ دی اور ایسے مزے کے ساتھ بیان کیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ امیر حمزہ کی داستان بیان ہورہی ہے۔ان کے کلام کی فصاحت دلوں کو موہ لیتی تھی۔حضرت مسیح موعود کا لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی انہوں نے ہی لاہور میں پڑھا تھا۔لیکچر سنے والوں نے کہا کہ بے شک لیکچر لکھنے والے کی خوبیوں اور علمی قابلیت کا کسی بھی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن وہ شخص جس نے یہ لیکچر پڑھا۔وہ بھی بہت قابل تعریف انسان تھا۔اس کی آواز ایسی شیریں تھی کہ سامعین مسحور ہوئے جاتے تھے۔جب مولوی عبدالکریم صاحب فوت ہو گئے تو ایک موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت گھبراہٹ ہوئی کیونکہ آپ نے آریہ سماج کے جلسہ کے لئے جو کہ لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ایک لیکچر تیار کیا۔آپ کو یہ فکر لاحق ہوا کہ اب اسے سنائے گا کون پہلے آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جا کر یہ لیکچر سنائیں۔جب یہ لیکچر چھپ گیا تو آپ نے مسجد میں حضرت خلیفہ اول کو فرمایا کہ آپ یہ