تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 862

تذکار مہدی — Page 10

تذکار مهدی ) 10 روایات سید نا محمودی ان باتوں کی اہمیت نہیں سمجھتے مگر جب احمدی ،فقہ، احمدی تصوف اور احمدی فلسفہ بنے گا تو اُس وقت یہ معمولی نظر آنے والی باتیں اہم حوالے قرار پائیں گی اور بڑے بڑے فلسفی جب ان واقعات کو پڑھیں گے تو کود پڑیں گے اور کہیں گے خدا اس روایت کو بیان کرنے والے کو جزائے خیر دے کہ اس نے ہماری ایک پیچیدہ گتھی سلجھا دی۔یہ ایسا ہی واقعہ ہے جیسے اب ہم حدیثوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سجدہ میں گئے تو حضرت حسنؓ جو اُس وقت چھوٹے بچے تھے آپ کی گردن پر لاتیں لٹکا کر بیٹھ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت تک سر نہ اُٹھایا جب تک کہ وہ خود بخود الگ نہ ہو گئے۔اب اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرے تو ممکن ہے بعض لوگ اُسے بے دین قرار دے دیں اور کہیں کہ اسے خدا کی عبادت کا خیال نہیں اپنے بچے کے احساسات کا خیال ہے؟ مگر ایسا شخص جب بھی یہ واقعہ پڑھے گا اُسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کا خیال غلط ہے اور وہ چُپ کر جائے گا۔گوایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو پھر بھی خاموش نہ رہ سکیں۔چنانچہ ایک پٹھان کے متعلق کہتے ہیں کہ اُس نے قدوری میں یہ پڑھا کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اس کے بعد وہ حدیث پڑھنے لگا تو اس میں ایک حدیث یہ آ گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جب نماز پڑھی تو اپنے ایک بچہ کو اٹھا لیا۔جب رکوع اور سجدہ میں جاتے تو اُسے اُتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اُٹھا لیتے۔وہ یہ حدیث پڑھتے ہی کہنے لگا خوہ! محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔گویا شریعت بنانے والا کنز یا قدوری کا مصنف تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے تو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو باوجود واضح مسئلہ کے اُسے ماننے سے انکار کر دیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔پس اس بات کی ہرگز پروا نہیں کرنی چاہئے کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جس بات کا علم ہے وہ چھوٹی سی ہے بلکہ خواہ کس قدر چھوٹی بات ہو بتا دینی چاہئے۔خواہ اتنی ہی بات ہو کہ میں نے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلتے چلتے گھاس پر بیٹھ گئے کیونکہ ان باتوں سے بھی بعد میں اہم نتائج اخذ کئے جائیں گے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بعض دوستوں سمیت باغ میں گئے اور آپ نے فرمایا آؤ بیدا نہ کھائیں۔چنانچہ بعض دوستوں نے چادر بچھائی اور آپ نے درخت