تذکار مہدی — Page 433
تذکار مهدی ) 433 روایات سید نا محمود جو باتیں کہہ رہے ہیں اُن کے کہنے کا آپ کو خدا نے حکم دیا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں جو کچھ کہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے کہہ رہا ہوں اس پر وہ اُسی وقت آپ پر ایمان لے آیا۔( صحیح مسلم جلد اول کتاب الایمان) گویا اور دلیلوں سے تو اُس کی تسلی نہ ہوئی لیکن جب رسول کریم ﷺ نے قسم کھا لی تو اس کی تسلی ہو گئی۔تو جب ایک گروہ دنیا میں ایسا ہے جس کی قسم سے ہی تسلی ہو سکتی ہے تو اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں قسم موجود نہ ہوتی تو ایسا گروہ صداقت کے قبول کرنے سے محروم رہ جاتا اور کلام الہی پر یہ اعتراض عائد ہوتا کہ وہ دعوئی تو یہ کر رہا ہے کہ تمام لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل ہوا مگر ایک طبقہ کے جائز مطالبہ کو اس میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور آ کر کہنے لگا کیا آپ قسم کھا کر مجھے لکھ کر دے سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسیح موعود بنایا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک ہفتہ کے بعد آنا۔جب وہ ہفتہ کے بعد آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے ایک تحریر لکھ کر دی جس کا مضمون یہ تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے یا اپنی تقریروں وغیرہ میں بیان کرتا ہوں یہ تمام علوم مجھے خدا نے عطا فرمائے ہیں اور خدا نے ہی مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان باتوں کو لوگوں کے سامنے پیش کروں اور اُسی کے حکم سے میں نے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا وعدہ کیا ہے۔(ایک ہفتہ بعد آنے کی شرط غالباً آپ نے اس لئے لگائی تا اُس شخص کی سنجیدگی کا ثبوت مل جائے۔ورنہ بعض لوگ تماشہ کے طور پر سوال کر دیتے ہیں آپ نے ایک ہفتہ کے بعد آنے کی شرط لگا کر امتحان کر لیا کہ وہ شخص سنجیدہ ہے اور وقت مقررہ پر پھر تکلیف اٹھا کر آیا ہے جب یہ امتحان ہو گیا تو آپ نے قسم تحریر فرما دی) تو ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو اور کسی دلیل کا متلاشی نہیں ہوتا۔وہ کہتا ہے اگر یہ بات سچ ہے تو پھر اس پر قسم کھا جاؤ۔اس قسم کی فطرت والوں کی اصلاح اور ہدایت کے لئے ضروری تھا کہ قرآن کریم میں قسمیں ہوتیں تا کہ یہ گروہ قبول ہدایت سے محروم نہ رہ جاتا۔( تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحه 83-82)