تذکار مہدی — Page 418
تذکار مهدی ) 418 روایات سید نا محمود کچھ عرصہ بعد منشی اروڑے خان صاحب قادیان آگئے تھے۔ایک دفعہ آپ نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔میں جو ان سے ملنے کے لئے باہر آیا تو دیکھا ان کے ہاتھ میں دو تین اشرفیاں تھیں جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے دیں کہ اماں جان کو دے دیں مجھے اس وقت یاد نہیں کہ وہ کیا کہا کرتے تھے۔مگر اماں جان یا اماں جی بہر حال ماں کے مفہوم کا لفظ ضرور تھا اس کے بعد انہوں نے رونا شروع کیا اور چیخیں مار مار کر اس شدت کے ساتھ رونے لگے کہ ان کا تمام جسم کانپ رہا تھا۔اگر چہ مجھے خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد نہیں رلا رہی ہے مگر وہ کچھ اس بے اختیاری سے رور ہے تھے کہ میں نے سمجھا کہ اس میں کسی اور بات کا بھی دخل ہے۔غرضیکہ وہ دیر تک کوئی پندرہ بیس منٹ بلکہ آدھ گھنٹہ تک روتے رہے۔میں چھتا رہا کہ کیا بات ہے۔وہ جواب دینا چاہتے مگر رفت کی وجہ سے جواب نہ دے سکتے۔آخر جب ان کی طبیعت سنبھلی تو انہوں نے کہا کہ میں نے جب بیعت کی ، اس وقت میری تنخواہ سات رو پی تھی اور اپنے اخراجات میں ہر طرح سے تنگی کر کے اس کے لئے کچھ نہ کچھ بچا تا کہ خود قادیان جا کر حضور کی خدمت میں پیش کروں اور بہت سا رستہ میں پیدل طے کرتا تا کہ کم سے کم خرچ کر کے قادیان پہنچ سکوں۔پھر ترقی ہوگئی اور ساتھ اس کے یہ حرص بھی بڑھتی گئی۔آخر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں حضور کی خدمت میں سونا نذر کروں۔جو تھوڑی سی تنخواہ میں سے علاوہ چندہ کے پیش کرنا چاہتا تھا لیکن جب تھوڑا تھوڑا کر کے کچھ جمع کر لیتا تو پھر گھبراہٹ سی پیدا ہوتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھے اتنی مدت ہو گئی ہے، اس لئے قبل اس کے کہ سونا حاصل کرنے کے لئے رقم جمع ہو، قادیان چلا آتا اور جو کچھ پاس ہوتا، حضور کی خدمت میں پیش کر دیتا۔آخر یہ تین پونڈ جمع کئے تھے اور ارادہ تھا کہ خود حاضر ہو کر پیش کروں گا کہ آپ کی وفات ہوگئی۔گویا ان کے تیس سال اس حسرت میں گزر گئے۔انہوں نے اس کے لئے محنت بھی کی لیکن جس وقت اس کی توفیق ملی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو چکے تھے۔بظاہر یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے اُس وقت بھی سلسلہ کے کاموں پر ڈیڑھ دو ہزار روپیہ ماہوار خرچ ہوتا تھا اور اب تو لاکھوں روپیہ سالانہ کا خرچ ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر اخراجات میں ان کےسونے کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی۔لیکن اس سے ان کے عشق کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ایک شخص اسی آرزو میں عمر گزار دیتا ہے کہ روپیہ جمع کر کے سونا نذر کرے۔سوچنا چاہئے کہ آج کتنے ہیں جو اس سے ہزار واہ حصہ بھی عشق رکھتے ہیں۔ایک شخص نے تمہیں سال تک کوشش کی۔اب کتنے