تذکار مہدی — Page 384
تذکار مهدی ) 384 روایات سید نامحمود طریق کو بھول جاتے ہیں۔وقت سے پہلے وہ ان باتوں کو اپنی مجالس میں دُہراتے اور ان کا اقرار کرتے ہیں لیکن عین موقع پر ان کا صاف انکار کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو حضرت خلیفہ اول کو اس قدر صدمہ ہوا کہ شدت غم کی وجہ سے آپ کے منہ سے بات تک نہیں نکلتی تھی اور ضعف اس قدر تھا کہ کبھی کمر پر ہاتھ رکھتے اور کبھی ماتھے پر ہاتھ رکھتے اسی حالت میں مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت خلیفہ اول کا ہاتھ پکڑ کر کہا أَنتَ الصِّدِّيقُ اور بعض اور فقرات بھی کہے جن کا مفہوم یہ تھا کہ خلافت اسلام کی سنت ہے لیکن بعد میں مولوی سید محمد احسن صاحب اس بات پر قائم نہ رہے اور اُنہوں نے خلافت سے منہ پھیر لیا۔مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء نے ان کے بچوں کو آٹے کی مشین لگوا دینے کا وعدہ کیا تھا۔پس اس بات پر لڑ کے اور بیوی پیغامیوں کا ساتھ دیتے رہے اور مولوی صاحب کو بھی مجبور کرتے رہے کہ وہ لاہوریوں کا ساتھ دیں۔جب وہ ابتلاء کے کچھ عرصہ بعد قادیان میں مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو صاف کہا کہ میں مجبور ہوں فالج نے قومی مار دیئے ہیں میں طہارت تک خود نہیں کر سکتا ان لوگوں کو وعدہ دے کر لاہوریوں نے بگاڑ رکھا ہے اور میں ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر یعقوب اور اس کی والدہ کو سنبھال لیا جائے تو میں بھی رہ سکوں گا۔میں چونکہ اس قسم کی رشوت دینے کا عادی نہیں میں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔مجھے اکثر ایسے لوگوں کی حالت پر حیرت آتی ہے کہ ذرا ان کو سلسلہ سے کوئی شکایت پیدا ہو تو انہیں خلافت کے مسئلہ میں بھی شک پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتی ہے ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 242-241) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں شیطانی حربہ کی صورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پھر شیطان نے ایک اور رنگ میں اس کی بنیاد رکھی۔آپ کی خلافت میں پہلا جھگڑا جو زیادہ شدت سے ظاہر نہیں ہوا۔حضرت خلیفہ اول کے خلیفہ بننے کے وقت ہوا۔یہ جھگڑا بھی درحقیقت وہی ابلیس والے جھگڑے کی طرز پر تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک انجمن مقبرہ بہشتی کی بنائی تھی اور اس میں حضرت خلیفہ اول کو صدر بنایا تھا اور مولوی محمد علی صاحب اس کے سیکرٹری تھے۔دوسرے ممبروں میں سے