تذکار مہدی — Page 357
تذکار مهدی ) 357 روایات سید نا محمودی کے کسی اور ملک میں ہوتی تو ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو کروڑ روپیہ سالانہ ان کی آمدن ہوتی۔( خطبات محمود جلد 37 صفحہ 271 تا 275 ) | جلسہ سالانہ کی تیاری اور وسع مکانک کا الہام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ایک الہام ہے۔جو ذومعانی ہے نہ تو ہم اس کے کوئی خاص معنی کر سکتے ہیں اور نہ ہمیں پتہ ہے کہ وہ کب اور کس طرح پورا ہو گا اور وہ الہام لنگر اٹھا دو‘ اس لنگر کے لفظ سے اگر کشتیوں والا لنگر مراد لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ باہر نکل جاؤ اور خدا تعالیٰ کے پیغام کو ہر جگہ پھیلا ؤ اور اگر لنگر سے ظاہری لنگر خانہ مراد لیا جائے۔تو پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب لنگر خانہ کا انتظام نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے لنگر اٹھا دو اور لوگوں سے کہو کہ وہ اپنی رہائش اور خوراک کا خود انتظام کر لیں۔ان دونوں مفہوموں میں سے ہم کسی مفہوم کو ابھی متعین نہیں کر سکتے اور نہ وقت متعین کر سکتے ہیں کہ کب ایسا ہو گا۔بہر حال جب تک مہمانوں کو ٹھہرانا انسانی طاقت میں ہے۔اس وقت تک ہمیں یہی ہدایت ہے کہ وسع مکانک تم اپنے مکان بڑھاتے جاؤ اور مہمانوں کے لئے گنجائش نکالو۔مہمان خانہ اُٹھانے کا سوال اُس وقت پیش آئے گا جب مہمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ جائے گی کہ اُن کی خوراک کا سلسلہ کے لیے انتظام کرنا مشکل ہو جائے گا۔لیکن اگر لنگر اُٹھا دو کا یہ مطلب نہیں کہ مہمان خانہ اُٹھا دو تو پھر اس کے یہ معنی ہیں کہ ساکن ہونا مومن کا کام نہیں تم کشتیاں لو اور غیر ممالک میں پھیل جاؤ۔بہرحال اس وقت کے لحاظ سے ہم میں اتنی طاقت ہے کہ اگر ہم صحیح قربانی کریں تو ہم ہر سال مہمانوں کو ٹھہرا سکتے ہیں اور ان کے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں اور ایسا کرنے سے ہم پر کوئی نا قابلِ برداشت بوجھ نہیں پڑتا۔جب وہ زمانہ آئے گا جب مہمان خانہ کا جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا تو خدا تعالیٰ کی دوسری ہدایت پہنچ جائے گی اور لنگر اُٹھا دو کے یقینی معنے ہماری سمجھ میں آجائیں گے۔بہر حال ہمیں مہمانوں کے ٹھہرانے کے لیے اپنی قربانی پیش کرنی چاہیے۔اگر ہمیں اس سلسلہ میں تکلیف بھی اُٹھانی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔آخر جلسہ سالانہ پر آنے والے بھی اپنے مکانات اور رشتہ دار چھوڑ کر آتے ہیں۔ہر سال درجنوں واقعات ایسے پیش آتے ہیں کہ لوگ یہاں آئے اور اُن کے مکانات کے تالے ٹوٹ گئے اور اُن کا سامان لوٹ لیا