تذکار مہدی — Page 345
تذکار مهدی ) 345 کو روایات سید نا محمود کے پورا ہونے کی کیا صورت ہو گی مگر اب یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ایک احمدی لنگر خانہ کا سارا خرچ دے سکتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زلزلہ کے متعلق اپنی پیشگوئیوں کی اشاعت فرمائی تو قادیان میں کثرت سے احمدی دوست آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی دوستوں سمیت باغ میں تشریف لے گئے اور وہاں خیموں میں رہائش شروع کر دی چونکہ ان دنوں قادیان میں زیادہ کثرت سے مہمان آنے لگ گئے تھے ایک دن آپ نے ہماری والدہ سے فرمایا اب تو روپیہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی میرا خیال ہے کہ کسی سے قرض لے لیا جائے کیونکہ اب اخراجات کے لئے کوئی روپیہ پاس نہیں رہا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ظہر کی نماز کیلئے تشریف لے گئے۔جب واپس آئے تو اس وقت مسکرا رہے تھے۔واپس آنے کے بعد پہلے آپ کمرہ میں تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے اور والدہ سے فرمایا کہ انسان باوجود خدا تعالیٰ کے متواتر نشانات دیکھنے کے بعض دفعہ بدظنی سے کام لے لیتا ہے۔میں نے خیال کیا تھا کہ لنگر کے لئے روپیہ نہیں اب کہیں سے قرض لینا پڑے گا مگر جب میں نماز کے لیئے گیا تو ایک شخص جس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ آگے بڑھا اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دے دی۔میں نے اس کی حالت دیکھ کر سمجھا کہ اس میں کچھ پیسے ہوں گے۔مگر جب گھر آ کر اسے کھولا تو اس میں سے کئی سو روپیہ نکل آیا۔اب دیکھو وہ روپیہ آج کل کے چندوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا تھا۔آج اگر کسی کو کہا جائے کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ایک دن نصیب کیا جاتا ہے بشرطیکہ تم لنگر کا ایک دن کا خرچ دے دو تو وہ کہے گا ایک دن کا خرچ نہیں تم مجھ سے سارے سال کا خرچ لے لولیکن خدا کے لئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ایک دن دیکھنے دو۔مگر آج کسی کو وہ بات کہاں نصیب ہو سکتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قربانی کرنے والوں کو نصیب ہوئی۔افسوس کہ لوگوں کے سامنے قربانی کے مواقع ہیں تو وہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب وقت گزر جاتا ہے تو حسرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کاش ہم نے فائدہ اٹھایا ہوتا۔کاش ہم نے وقت کو ضائع نہ کیا ہوتا۔اب بھی خدا تعالیٰ نے ان کے لئے ایک بڑا