تذکار مہدی — Page 343
تذکار مهدی ) 343 روایات سید نا محمود حقیقت ہے کہ بیس فیصدی یا چالیس فیصدی لوگ جلسہ گاہ سے باہر آ جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اتنے لمبے پروگرام کو برداشت نہیں کر سکتے۔اب جس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ذمہ داری عائد ہے اس نے تو لازمی طور پر تقریر کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت آپ کی تقریر لازمی تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح اوّل کے زمانہ میں آپ کی تقریر لازمی تھی اور اب میری تقریر لازمی ہے۔باقی پروگرام محض ضمنی ہوتا ہے۔پس پروگرام اس شکل میں بنانا چاہیے کہ لوگوں پر بوجھ نہ ہو۔اس دفعہ چھوٹی تقریریں رکھی گئی تھیں لیکن مقررین نے شور مچا دیا کہ ہمیں وقت تھوڑا دیا گیا ہے۔اگر لمبی تقریریں ضروری ہوں تو پھر صرف چند تقاریر ہو جائیں ( اور ضروری نہیں کہ ہر جلسہ پر اُس شخص کی تقریر ہو جس کی تقریر ایک دفعہ رکھی جا چکی ہے۔باری باری مختلف جلسوں میں مختلف لوگوں کی تقریر رکھی جا سکتی ہے)۔اس طرح آرام کے لیے وقفہ زیادہ ہو جائے گا اور سننے والوں کے لیے سہولت پیدا ہو جائے گی۔پھر بیشک لوگوں پر سختی کی جائے کہ وہ تقاریر کے دوران میں جلسہ گاہ سے باہر نہ جائیں۔اس کے بعد جس طرح پہلے بعض لوگ اقامت گاہوں میں جا کر تقاریر کیا کرتے تھے اُسی طرح اب بھی ہو سکتا ہے۔ہماری جماعت میں بابا حسن محمد صاحب والد مولوی رحمت علی صاحب کو اس قسم کی تقاریر کا بہت شوق تھا۔اللہ بخش صاحب ہے ہالی کے ایک شاعر تھے۔اُن کو بھی تقریر کرنے کا بہت شوق تھا۔اسی طرح بعض اور دوست تھے انہیں بھی تقریر کرنے کا شوق ہوتا تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ یہ لوگ اقامت گاہوں میں چلے جاتے اور تقریر شروع کر دیتے۔اسی طرح اب بھی شائقین یا کسی پروگرام کے ماتحت بعض لیکچرارا قامت گاہوں میں چلے جائیں اور وہاں تقاریر کریں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس قسم کی تقاریر کو سننا لوگوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔بہر حال زمانہ کے بدلنے کا لحاظ رکھنا چاہئے اب زائرین پہلے جلسوں سے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اُن کو آرام سے دیر تک نہیں بٹھایا جا سکتا اور لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت مہیا کرنی چاہئے تا کہ وہ جلسہ کے پروگرام سے صحیح طور پر فائدہ اُٹھا سکیں۔(الفضل 16 دسمبر 1954 ء جلد 43/8 نمبر 65 صفحہ 5) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بدظنی کرنے والے وہ لوگ جو ہم سے علیحدہ ہو گئے ہیں ان میں اپنے بھائیوں پر بدظنی کرنے کی عادت