تذکار مہدی — Page 271
تذکار مهدی ) 271 روایات سید نامحمود کے معجزے بھی بڑے ہیں۔مگر جہاں تک انسان کی اپنی ذات کا سوال ہوتا ہے اس کے لیے وہی معجزہ بڑا ہوتا ہے جس کا وہ اپنی ذات میں مشاہدہ کرتا ہے۔دوسرے معجزات کے متعلق تو وہ خیال کر سکتا ہے کہ شاید ان کے بیان کرنے میں کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر جو خواب اُس نے آپ دیکھی ہو یا جو کشف اس نے خود دیکھا ہو اس کے متعلق وہ کوئی بہانہ نہیں بنا سکتا۔اسے بہر حال مانا پڑتا ہے کہ وہ خدا تعالی کی طرف سے تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چونکہ پہلے تمام انبیاء ہمارے بزرگ ہیں اور ان کے معجزات کی تعداد بہت زیادہ ہے ہم ان کے معجزات کو بڑے معجزات کہتے ہیں لیکن حقیقتا وہ نشان جو اللہ تعالیٰ ہمیں براہِ راست دکھاتا ہے اور جس کا ہم اپنی ذات میں مشاہدہ کرتے ہیں وہ ہمارے نقطہ نگاہ سے زیادہ شاندار ہوتا ہے کیونکہ ہمیں اپنی خوابوں یا کشوف یا الہامات کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوسکتا مگر دوسروں کے متعلق شبہ ہوسکتا ہے کہ شاید اس کا کوئی حصہ راوی بھول گیا ہو۔یا اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی اشتہار کا حوالہ دیا ہو اور اس میں اپنے کسی نشان کا ذکر کیا ہو تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ وہ اشتہار میرے پاس نہیں۔معلوم نہیں اس میں وہ بات درج بھی ہے یا نہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک مشہور کشف ہے جس میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کے کپڑوں پر سرخی کے چھینٹے گرے تھے۔اب خواہ یہ کتنا بڑا معجزہ ہو دوسرے کے دل میں شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ کہیں میاں عبداللہ صاحب ستوری نے جھوٹ نہ بولا ہو یا سرخی کے یہ چھینٹے کسی اور وجہ سے پڑ گئے ہوں اور انہوں نے اپنے پیر کی طرف منسوب کر دیا ہو۔پس دوسروں کے معجزات خواہ کتنے بڑے ہوں انسان کو ان کے متعلق شبہ ہو سکتا لیکن جو نشان اپنی ذات میں ظاہر ہوتا ہے اس کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔دوسرے کے متعلق تو کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے اس نے جھوٹ بولا ہومگر اپنے متعلق وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ شاید میں نے جھوٹ بولا ہو۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے انسان اپنے متعلق شبہ کرنے لگے کہ میرا وجود کوئی نہیں یا یہ خیال کرنے لگے کہ میں کوئی اور آدمی ہوں۔جس طرح اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا اسی طرح وہ خواب جو انسان نے خود دیکھا ہو یا وہ نشان جو خود اس کی ذات میں ظاہر ہوا ہو اس کے متعلق وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ شاید وہ جھوٹا ہو یا شاید اس کے متعلق مجھے کوئی غلط نہیں ہو گئی ہو۔۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو دیکھ لو۔انہوں نے جب احمدیت قبول کی اور وہ قادیان میں کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعد کا بل واپس گئے۔تو وہاں کے گورنر نے انہیں بلایا۔اور کہا کہ