تذکار مہدی — Page 245
تذکار مهدی ) 245 روایات سید نامحمود نکلتے ، لوگ اطلاع کرواتے ہیں، بعض اوقات کسی مجبوری کی وجہ سے مرزا صاحب دیر تک باہر نہیں آتے اور کہلا بھیجتے ہیں کہ طبیعت اچھی نہیں اس وقت نہیں آ سکتے اور گو ملنے والے بڑے بڑے آدمی ہوتے ہیں لیکن چپ کر کے دروازے کے آگے بیٹھے رہتے ہیں اور اگر مصافحہ ہو جاتا ہے تو بڑے خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں بڑا کام ہو گیا۔مگر مولوی صاحب! میں اکثر بٹالہ آتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسٹیشن پر آتے ہیں اور لوگوں کو ورغلاتے ہیں لیکن پھر بھی لوگ آپ کی نہیں مانتے اور مرزا صاحب کی طرف چلے جاتے ہیں اور پھر کہا کہ مولوی صاحب! آپ کی تو جوتیاں بھی اس کام میں گھس گئی ہوں گی مگر سنتا کوئی نہیں آخر کچھ تو مرزا صاحب میں بات ہوگی جو ایسا ہو رہا ہے۔تو یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جس پر نازل ہوتا ہے۔بعض اوقات لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض ہوتا دیکھ کر اس کو الٹنے لگ جاتے ہیں یا بعض اوقات غصے میں آجاتے ہیں یہ طریقہ صحیح نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب بھی کوئی آدمی آ کر کوئی سوال کرتا تو آپ اُس کا صحیح جواب دیتے اور کوئی ایچ بیچ نہ کرتے خواہ دشمنوں کو اس سے ہنسی کا موقع مل جاتا۔قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید، انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 156 تا 158 ) احمدیت کی برکات مجھے اپنے بچپن کے زمانہ میں ضلع گجرات کے لوگوں کا یہاں آنا یاد ہے۔اس وقت سیالکوٹ اور گجرات سلسلہ کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔گورداسپور بہت پیچھے تھا کیونکہ قاعدہ ہے کہ نبی کی اپنے وطن میں زیادہ قدر نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں سیالکوٹ اول نمبر پر تھا اور گجرات دوسرے نمبر پر۔مجھے گجرات کے بہت سے آدمیوں کی شکلیں اب تک یاد ہیں مجھے یاد ہے کہ بہت سے اخلاص کی وجہ سے کہ تا وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کو پورا کرنے والے نہیں کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔نہ اس وجہ سے کہ انہیں مالی تنگی ہوتی پیدل چل کر قادیان آتے۔ان میں بڑے بڑے مخلص تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب رکھتے۔یہ بھی ضلع گجرات کے لوگوں کا ہی واقعہ ہے جو حافظ روشن علی صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے اور میں بھی اس کا ذکر کر چکا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک جماعت ایک طرف سے آ رہی تھی اور دوسری دوسری طرف سے۔حافظ صاحب کہتے۔میں نے دیکھا وہ