تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 862

تذکار مہدی — Page 241

تذکار مهدی ) 241 روایات سید نا محمود ) طرف توجہ کریں تو دس ہزار خریدار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کو ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کی توفیق نہیں ملی۔میں سمجھتا ہوں اگر غیر احمدیوں میں اس رسالہ کی کثرت سے اشاعت کی جائے تو دس ہزار خریدار یقیناً میسر آ سکتا ہے کیونکہ اس رسالہ میں ایسے علمی مضامین شائع ہوتے ہیں جو عام طور پر دوسرے رسالوں کو میسر نہیں آتے۔انگریزی دان طبقہ کیلئے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اس رسالہ کو کثرت سے خریدیں لیکن وہ دوست جو انگریزی نہیں جانتے وہ بھی اگر شادی بیاہ کے موقع پر ریویو آف ریلیجنز کی امداد کے لئے کچھ دے دیا کریں تو ان پر کچھ زیادہ بار نہیں ہو سکتا۔لوگ شادیوں کے موقع پر صدقہ و خیرات کیا کرتے ہیں اور جو لوگ صدقہ و خیرات نہیں کرتے وہ بھی میرا شیوں اور ڈوموں میں جب وہ مبارکباد دینے کیلئے آتے ہیں تو کئی روپے تقسیم کر دیتے ہیں۔(بانی سلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے ، انوار العلوم جلد 15 صفحہ 228، 229) میاں نور محمد صاحب لدھیانوی اسی قسم کا ایک اور واقعہ مجھے یاد آ گیا ہے۔لدھیانہ کے علاقہ کے ایک شخص میاں نور محمد صاحب تھے۔انہوں نے ادنیٰ اقوام میں تبلیغ اسلام کا بیڑا اُٹھایا ہوا تھا۔وہ خاکروبوں میں تبلیغ کیا کرتے تھے اور سینکڑوں خاکروب ان کے مرید ہو گئے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور ان کے بعض مرید بعض دفعہ یہاں بھی آجایا کرتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب ہمارے پیر کے پیر ہیں۔یہاں ہمارے ایک رشتہ میں چچا نے محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت اور آپ کے دعوی کا تمسخر اڑانے کے لئے اپنے آپ کو چوہڑوں کا پیر مشہور کیا ہوا تھا۔اور ان کا دعویٰ تھا کہ میں لال بیگ ہوں۔ایک دفعہ بعض وہ لوگ جو خاکروب سے مسلمان ہو چکے تھے یہاں آئے ہوئے تھے۔انہیں حقہ کی عادت تھی۔ان صاحب کی مجلس میں جو انہوں نے حصہ دیکھا تو حقہ کی خاطر ان کے پاس جا بیٹھے۔ہمارے چچا نے ان سے مذہبی گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ تم مرزا صاحب کے پاس کیوں آئے ہو؟ تم تو دراصل میرے مرید ہو۔مرزا صاحب نے تمہیں کیا دیا ہے۔وہ لوگ ان پڑھ تھے جیسے خاکروب عام طور پر ہوتے ہیں۔آج کل تو پھر بھی خاکروب کچھ ہوشیار ہو گئے ہیں لیکن یہ آج سے چالیس سال پہلے کی بات ہے اُس وقت یہ قوم بالکل ہی جاہل تھی۔لیکن جب ان سے ہمارے چا