تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 862

تذکار مہدی — Page 137

تذکار مهدی 137 روایات سید نا محمودی مجھ پر کئی حملے کیئے گئے ، اعتراضات کیئے گئے اور کہا کہ ہم خلافت کو مٹا دیں گے اور یہی وہ اندھیرا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے دُور کر دیا اور خلافت جوبلی کی تقریب منانے کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ اِس وقت یہ نظم سُن کر دُور ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا اظہار ہو رہا ہے۔دشمنوں نے کہا کہ ہم جماعت کو پھرا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اور بھی زیادہ لوگوں کو لائیں گے اور جب ہم روشن کرنا چاہیں تو کوئی اندھیرا نہیں کر سکتا۔اور اس طرح اس تقریب کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا وہ یہ نظارہ دیکھ کر دُور ہو گیا ورنہ مجھے تو شرم آتی ہے کہ میری طرف یہ تقریب منسوب ہو مگر ہمارے سب کام اللہ تعالیٰ کے لیئے ہیں اور اس کے ذریعہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی ہیں اس لئے اس کے منانے میں کوئی حرج نہیں۔( تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ، انوار العلوم جلد 15 صفحہ 429 تا 433 ) تازہ الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کشفی حالت طاری ہوئی اور آپ نے دیکھا کہ ایک کونہ میں نجاست پڑی ہے۔اس پر آپ نے اسے کہا تم جھوٹ بولتی ہو فلاں کو نہ تو ابھی گندا ہے اور تم نے اس کی صفائی نہیں کی وہ یہ سن کر حیران رہ گئی کہ انہیں اندر بیٹھے کس طرح علم ہو گیا کہ میں نے پوری صفائی نہیں کی۔( تذکرہ صفحہ 465) یہ نظارہ بھی منفرد اور مشترک دونوں رنگ رکھتا ہے یعنی کبھی صرف ایک شخص کو نظارہ دکھایا جاتا ہے اور کبھی ویسا ہی نظارہ دوسروں کو بھی دکھا دیا جاتا ہے۔کلام بلا واسطہ جو کانوں پر گرتا ہے منفر دومشترک بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کا کلام الفاظ کی صورت میں انسانی کانوں پر نازل ہوتا ہے اور غیب سے آواز آتی ہے کہ یوں ہو گیا ہے یا یوں ہو جائے گا یا یوں کر۔گویا ماضی کے صیغہ میں بھی یہ کلام نازل ہوتا ہے،مستقبل کے صیغہ میں بھی نازل ہوتا ہے اور امر کی صورت میں بھی نازل ہوتا ہے۔یہ بلاواسطہ کلام جس کی کانوں میں آواز سنائی دیتی ہے اس کی بھی دونوں حیثیتیں ہیں یعنی یہ منفرد بھی ہوتا ہے اور مشترک بھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ صرف ملہم کو ایک آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی ویسی ہی آواز دوسرے کو بھی آ جاتی ہے۔