تذکار مہدی — Page 63
تذکار مهدی 63 روایات سید نا محمود ہو گا۔یہ قرآن کریم کا وعدہ ہے جو اصدق الصادقین ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اگر تم اس پر عمل کرو گے۔تو تم ہمیشہ کامیابی اور با مرادی دیکھو گے اور تمہارا دشمن ناکام و نامراد ہوگا کیونکہ تمہارا دشمن خدا تعالیٰ کو نہیں پکارتا۔اسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو پکارتا ہے۔لیکن تم مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہو اور اس سے مدد چاہتے ہو۔ہمارے ایک تایا تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چا کے بیٹے تھے اور آپ کے سخت مخالف تھے اور دہر یہ تھے۔انہیں آپ سے اتنی ضد تھی کہ ہر موقع پر وہ اپنا بغض نکالتے تھے۔آپ نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو انہوں نے بھی دعوی کر دیا کہ میں چوہڑوں کا پیر ہوں اور ان کے بزرگوں کا اوتار ہوں۔ایک دفعہ لدھیانہ کے بعض چوہڑے جو اپنے پیر سمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مرید ہو گئے تھے۔اپنے پیر سے اجازت لے کر قادیان آئے۔مرزا امام دین صاحب کو پتہ لگا۔تو انہوں نے انہیں بلایا اور کہا میاں ادھر آؤ۔جب وہ ان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا میاں تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مرزا غلام احمد کے مرید بن گئے ہو۔چوڑھوں کا لال بیگ تو میں ہوں۔تم مرزا صاحب کے پاس کیوں چلے گئے ہو۔تمہیں وہاں کیا ملا ہے۔انہوں نے کہا مرزا صاحب! ہم تو ان پڑھ ہیں ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ ہمیں کیا ملا ہے۔صرف اتنا علم ہے کہ آپ مغل تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کی وجہ سے چوڑھے کہلانے لگ گئے اور ہم لوگ چوڑھے تھے لیکن مرزا صاحب کو مان لینے کی وجہ سے مرزائی کہلانے لگ گئے ہیں۔ہمیں دلائل نہیں آتے۔صرف اتنا نظر آتا ہے کہ ہم آپ پر ایمان لانے کی وجہ سے مرزا بن گئے اور آپ مخالفت کرنے کی وجہ سے چوڑھے بن گئے ہیں۔مرزا امام دین صاحب کو ایک دفعہ پیٹ درد ہوا۔ان دنوں قادریان میں حضرت خلیفہ اول کے سوا اور کوئی طبیب نہیں ہوتا تھا۔اس لیئے انہوں نے حضرت خلیفتہ اسیح اول کو بلایا۔آپ ان کے گھر تشریف لے گئے۔آپ نے دیکھا کہ وہ درد کے مارے دالان میں فرش پر لوٹتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں ہائے اماں۔ہائے اماں۔حضرت خلیفہ اُسی اول نے فرمایا۔مرزا صاحب! اس تکلیف کے وقت بھی آپ خدا تعالیٰ کو نہیں پکارتے اور اپنی والدہ کا نام لیئے جارہے ہیں وہ کہنے لگے مولوی صاحب ماں تو میں نے دیکھی ہے لیکن خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا اس لئے میں خدا تعالیٰ کو کیا پکاروں اپنی ماں کو ہی پکارتا ہوں۔یہی مومن اور کافر میں فرق ہے۔مرزا امام دین صاحب کو